امت مسلمہ کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد، اعتدال اور باہمی تعاون میں ہے، مولانا فضل الرحمان
فوٹو فائل
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلامی اخوت اور باہمی تعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور امت مسلمہ کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد، اعتدال اور باہمی تعاون میں ہے۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام پاکستانی علمائے کرام کے ساتھ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، مولانا فضل الرحمان، مفتی تقی عثمانی، مولانا حنیف جالندھری دیگر جید علمائے کرام تقریب میں شریک ہوئے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں معزز علمائے کرام اور مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایمان، اخوت اور مشترکہ اسلامی مفادات پر قائم ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات امت مسلمہ کے لیے قوت کا سرچشمہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی امت کے اتحاد، اعتدال اور رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، رابطہ عالم اسلامی کی خدمات پوری امت مسلمہ کے لیے قابل تحسین ہیں، امت مسلمہ کی وحدت اور استحکام کی ضمانت علما کے اتحاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی اخوت اور باہمی تعاون وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ تاریخ، عقیدے اور بھائی چارے سے مضبوط ہے، امت مسلمہ کے مشترکہ مسائل کا حل اتحاد، اعتدال اور باہمی تعاون میں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، سلامتی اور درازی عمر کے لیے دعا گو ہوں، ولی عہد محمد بن سلمان کی کامیابی، استحکام اور خیر و برکت کے لیے بھی دعا گو ہیں۔
انہوں نے مملکت سعودی عرب کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی ان شا اللہ مزید مضبوط ہوگی۔