مشرق وسطیٰ کا نیا عالمی منظرنامہ

اس پورے منظرنامے میں پاکستان اور سعودی عرب کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی صدر کے بقول ایران نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو سخت فوجی ردعمل کی ہدایات دے چکے ہیں۔

بعض اوقات تاریخ اپنے سب سے نازک موڑ پر جنگ اور امن کے درمیان ایسی باریک لکیر کھینچ دیتی ہے جسے صرف ہتھیار نہیں بلکہ تدبر، سفارت اور سیاسی بصیرت ہی عبور کر سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اس وقت اسی کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ہر نیا بیان، ہر سفارتی رابطہ، ہر عسکری تیاری اور ہر بحری نقل و حرکت عالمی سیاست کے توازن پر براہِ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔

چند ہفتے قبل تک جو امید پیدا ہوئی تھی کہ واشنگٹن اور تہران ایک نئے مفاہمتی مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، اب اس پر دوبارہ غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اوردیگرشہداء کے قتل کا انتقام لینے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے اور اسے ضرور پورا کیا جانا چاہیے، دوسری طرف صدرٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا ایران کو تباہ و برباد کر دے گا‘ ایک ہزار میزائل مکمل تیار ہیں اورتہران کی جانب نشانہ باندھے ہوئے ہیں،اس کشیدہ منظرنامے کی سب سے نمایاں علامت آبنائے ہرمز کی غیر معمولی صورتحال ہے، جو صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے آج کا بحران کسی ایک خطے یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکا تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض دونوں اس بحران کو محض ایک عسکری تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے توانائی، عالمی تجارت، بحری سلامتی اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں ایران سے مذاکرات، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ اگرچہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم عالمی اقتصادی مفادات نے تمام متعلقہ طاقتوں کو سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی جنگ کا سب سے پہلا اور شدید اثر تیل کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور مالیاتی استحکام پر پڑتا ہے۔

 اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مسقط میں عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات نے ایک مرتبہ پھر عمان کے اس تاریخی کردار کو اجاگر کیا ہے جو کئی دہائیوں سے خطے میں خاموش مگر موثر سفارت کاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو الگ الگ کنٹرول شدہ بحری راستوں کی تجویز اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی تنازعات کے باوجود عالمی تجارت کو مکمل طور پر یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے۔ ماضی میں بھی مسقط نے متعدد علاقائی تنازعات میں رابطے کا پل بننے کی کوشش کی ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہی کردار دوبارہ نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری طرف ایران کے اعلیٰ حکام کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ تہران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ اگر سفارتی معاہدوں کی پاسداری یکطرفہ طور پر متاثر ہوتی ہے تو اعتماد کی فضا بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات اسی صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب تمام فریق اپنے وعدوں اور ذمے داریوں کی پاسداری کریں۔

دوسری جانب واشنگٹن نے بھی اپنے سلامتی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کے بارے میں واضح یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے، یوں دونوں ممالک کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اختلافات صرف عسکری نہیں بلکہ اعتماد کے بحران سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ الفاظ کبھی کبھی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سخت بیانات، دھمکی آمیز لہجہ اور جوابی اعلانات سفارتی فاصلوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی بڑی تعداد اس وقت کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات کے تسلسل پر زور دے رہی ہے، کیونکہ ایک غلط اندازہ یا محدود عسکری کارروائی بھی وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلایا ہے کہ عالمی معیشت چند انتہائی حساس بحری راستوں پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اگر اس راستے میں چند دن کی رکاوٹ بھی پیدا ہو جائے تو صرف تیل ہی نہیں بلکہ ایل این جی، پیٹروکیمیکل مصنوعات، خام مال، خوراک اور صنعتی سپلائی چین بھی متاثر ہوتی ہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق کئی روز تک بحری آمدورفت معمول سے کہیں کم رہی، درجنوں جہاز سیکیورٹی کلیئرنس کے منتظر رہے اور صرف محدود تعداد میں جہاز گزر سکے۔ اس سے انشورنس اخراجات میں اضافہ، کرایوں میں غیر معمولی تبدیلی اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔عالمی تجارت کا بنیادی اصول پیش گوئی اور تسلسل ہے۔ سرمایہ کار، تاجر اور صنعت کار اسی وقت اعتماد کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں جب انھیں یقین ہو کہ رسد کا نظام بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ لیکن جب کسی اہم بحری راستے پر غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، پھر پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور آخرکار اس کا بوجھ عام صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو صرف علاقائی تنازع سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ پوری عالمی اقتصادی ساخت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

اسی تناظر میں عراق سے شام کی بندرگاہ بانیاس تک قدیم تیل پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کی اطلاعات بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں، اگر ایسے متبادل راستے عملی صورت اختیار کرتے ہیں تو مستقبل میں عالمی توانائی کی ترسیل کسی ایک بحری گزرگاہ پر مکمل انحصار سے کسی حد تک نکل سکتی ہے۔ تاہم یہ منصوبے نہ صرف بھاری سرمایہ کاری بلکہ سیاسی استحکام، علاقائی تعاون اور طویل المدت سلامتی کے متقاضی ہیں۔ اس لیے انھیں فوری حل کے بجائے مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

 اس پورے منظرنامے میں پاکستان اور سعودی عرب کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان رابطہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں مزید اضافے کو خطے کے مفاد میں نہیں سمجھتے۔ پاکستان مسلسل اس موقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ اختلافات کا پائیدار حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ یہی اصول بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح سے بھی ہم آہنگ ہے۔

 اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق اشتعال انگیز بیانات کے بجائے اعتماد سازی کے عملی اقدامات کریں، بحری راستوں کی آزادی کو بین الاقوامی ذمے داری سمجھیں، سفارتی رابطوں کو منقطع نہ ہونے دیں اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کریں جو کسی محدود تنازع کو وسیع علاقائی بحران میں تبدیل کر سکتے ہوں۔ آبنائے ہرمز صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی مشترکہ امانت ہے، اور اس کا تحفظ کسی ایک ریاست نہیں بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمے داری ہے، اگر یہی حقیقت پالیسی سازی کا محور بن جائے تو آج کی کشیدگی کل کے استحکام میں بدل سکتی ہے، لیکن اگر سیاسی ضد، عسکری برتری کے مظاہرے اور باہمی عدم اعتماد ہی غالب رہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے اقتصادی اور سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 پاکستان کے لیے اس بحران کی اہمیت صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ توانائی کی درآمدات پر انحصار رکھنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر، مہنگائی اور صنعتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کی یہ خواہش محض اصولی نہیں بلکہ قومی مفاد سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو، بحری تجارت معمول پر آئے اور توانائی کی عالمی منڈیاں استحکام حاصل کریں۔

 تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والے بحران اکثر اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر پوری دنیا کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اکیسویں صدی میں سلامتی، معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں، اگر طاقت کا توازن مذاکرات کے بغیر قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے نتائج دیرپا استحکام کے بجائے مسلسل بے یقینی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

Load Next Story