بلوچستان میں دہشت گردی

اندرونی اختلافات و بیرونی سازشوں کے باعث دہشت گردی کے عفریت نے پورے ملک میں اپنا جال بچھا رکھا ہے


ایم جے گوہر July 13, 2026

وطن عزیز گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ سانحہ 9/11 کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی بننے سے آج تک پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جانی، مالی اور معاشی حوالے سے اربوں روپے کے نقصانات برداشت کیے ہیں۔ عوام الناس سے لے کر مقبول سیاسی رہنماؤں تک اور پولیس اہلکاروں سے لے کر فوجی جوانوں اور افسروں تک خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گردوں نے اہم سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں، اسکولوں، بازاروں، مساجد و امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا۔ اندرونی اختلافات و بیرونی سازشوں کے باعث دہشت گردی کے عفریت نے پورے ملک میں اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ افغانستان کی طالبان رجیم کی سہولت کاری اور ہندوستان کی مالی و عسکری معاونت کے طفیل دہشت گردوں نے اپنے اہداف کو وقفے وقفے سے نشانہ بنانے کا سلسلہ تاحال جاری رکھا ہوا ہے۔ بالخصوص صوبہ بلوچستان دہشت گردوں کا خاص ہدف بنا ہوا ہے۔ سیکیورٹی اہلکار، پولیس اور پاک فوج مشترکہ طور پر دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کو اپنی جان کی بازی لگا کر ناکام بنانے میں پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔

پوری قوم دہشت گردی کے خلاف منظم اور متحد اور پاک فوج کی پشت پر پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی مذموم و ناپاک سازشوں کے خلاف یک جان و یک زبان ہے۔ بعینہ ملک کی سیاسی قیادت بھی اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔

جیساکہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف یکسو اور متحد ہے اور بلوچستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے اندرونی و بیرونی دہشت گرد نیٹ ورک کو کچل کر رکھ دیں گے۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ دہشت گردی میں مشرقی ہمسایہ یعنی بھارت کا بھرپور کردار ہے جو پیسہ اور اسلحہ دے رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین بھی استعمال ہو رہی ہے۔

یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ گزشتہ سال معرکہ حق میں رسوا کن شکست کے بعد پیچ و تاب میں مبتلا بھارت ہر لمحہ پاکستان سے کسی صورت بدلہ لینے کے لیے سازشوں کے تانے بانے بن رہا ہے۔ بدقسمتی سے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان طالبان حکومت نے بھارتی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہوئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین حکومتی و عسکری سطح پر احتجاج اور آپریشن غضب للحق کے باوجود افغان طالبان رجیم نے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں اور خفیہ ٹھکانوں کے خلاف کوئی ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ اسی باعث دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے افغان سرحد پار کرکے بلوچستان میں اپنے اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے بلوچستان میں صرف چار دن کے دوران تین دہشت گرد حملوں میں کم و بیش 42 پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری شہید ہوئے جب کہ پاک فوج کی اور پولیس کی جوابی کارروائی سے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 54 دہشت گرد مارے گئے۔ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ دہشت گردی کی کارروائیاں بھارت کر رہا ہے۔

ان واقعات کے پیچھے ایک منصوبہ ہے جس میں افغان رجیم معاونت فراہم کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ دشمن کو امن سے کھیلنے نہیں دیں گے۔ قوم کی حمایت سے سرحد پار دہشت گردی کو پوری قوت سے کچل دیں گے۔ انھوں نے درست کہا کہ جنگیں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں لیکن ہمارا عیار دشمن پراکسی کے ذریعے جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ پوری قوم دشمن کے خلاف متحد اور پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

بلوچستان معدنی و قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ گوادر پورٹ اور چین کے تعاون سے سی پیک منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کی ترقی و خوشحالی اور معاشی استحکام کا ضامن ہے۔ جب کہ ہمارا چالاک دشمن پاکستان کے استحکام و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ اسی لیے وہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کو ورغلا کر اور روپے پیسے کا لالچ دے کر ان کی سہولت کاری حاصل کرنے کا خواہاں رہتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ بلوچ عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے، بلوچستان ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر اور مقامی نمایندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بلوچ عوام کے سیاسی، آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ سیاسی سطح پر پھیلی ہوئی بے چینی و اضطراب کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں برسر اقتدار حکومتیں دعوؤں کے باوجود بلوچستان میں جڑ پکڑتی عوامی محرومیوں کا ازالہ نہ کر سکیں جو افسوس ناک امر ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی ختم کرنے کے اسباب کرنا ہوں گے۔