بااثر شخصیات اور بلڈرز کو غیر قانونی سیکیورٹی فراہم کرنے پر آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب
صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں پولیس کے سیکیورٹی ونگ میں مبینہ کرپشن اور غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے 23 جولائی تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ شکایت غلام اکبر جتوئی ایڈووکیٹ کی جانب سے براہِ راست عدالت میں دائر کی گئی۔
درخواست میں ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود میمن، ایس پی سیکیورٹی ون محمود راجپوت سمیت دیگر افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔
شکایت کے مطابق تقریباً 100 پولیس اہلکاروں کو بااثر شخصیات، بلڈرز اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی سیکیورٹی پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان تعیناتیوں کے عوض ہر اہلکار سے 25 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک مبینہ طور پر وصول کیے جاتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض پولیس اہلکاروں کو 25 سے 30 ہزار روپے ماہانہ دے کر سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر رکھا جاتا ہے جبکہ سرکاری ریکارڈ میں انہیں بدستور ڈیوٹی پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
شکایت گزار کے مطابق ایس پی سیکیورٹی محمود راجپوت اور ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود میمن مبینہ طور پر ان تعیناتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔