روٹین لائف، بیزاری اور حل 

زندگی زندہ دلی کا نام ہے، اس میں خوش رہنے کے لیے تبدیلی اور تنوع ضروری ہے

راضیہ سید

روٹین لائف سے بیزاری اور کچھ نیا کرنے کی خواہش ہمیشہ سے ہی انسانی فطرت کا حصہ رہی ہے۔ آج کا دور ڈیجیٹل ترقی کا دور ہے، زندگی اتنی مصروف ہوچکی ہے کہ کسی کے پاس کسی کو پوچھنے کے لیے دو پل بھی میسر نہیں۔ طلبا ہیں تو وہ اپنی تدریسی سرگرمیوں میں مگن ہیں، ملازمت پیشہ تنخواہ دار طبقہ لگی بندھی روٹین میں مصروف ہے، گھریلو خواتین گھر کے کام کاج اور خاندان کی دیکھ بھال میں مشغول ہیں۔ دیکھا جائے تو تفریح کے مواقع بہت ہی کم یا ہیں ہی نہیں۔

انسان کی زندگی مسلسل حرکت، تبدیلی اور ترقی کا نام ہے۔ جب زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی رہتی ہے تو بوریت اور یکسانیت کا آنا لازم ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ تبدیلی اور تنوع چاہتا ہے ورنہ اکتاہٹ اور بیزاری اسے بری طرح گھیر لیتی ہیں۔ روٹین لائف اگرچہ نظم و نسق اور استحکام پیدا کرتی ہے لیکن جب اس میں تبدیلی اور تنوع نہ ہو تو انسان کی تخلیقی صالاحیتں متاثر ہونے لگتی ہیں اور وہ بے زاری محسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان خود کو بے مقصد اور فالتو سمجھنے لگتا ہے۔

یہ وقت ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی نئی سرگرمی سیکھی جائے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ تبدیلی مثبت اور متوازن ہو، جلد بازی میں ایسے مشاغل اختیار نہ کیے جائیں جو آپ کے لیے نقصان دہ ہوں۔ یہاں مثال سوشل میڈیا کی لی جا سکتی ہے کہ لوگ بوریت کا حل نکالنے کےلیے ریلز دیکھنے لگ جاتے ہیں جبکہ ہر شخص کو اپنے حساب سے اسکرین ٹائم مختص کرنا چاہیے اور بے وقت کی اسکرولنگ سے گریز کرنا چاہیے۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ کون سی سرگرمیاں ایسی ہیں جو آپ کو بہتری کی جانب لے جا سکتی ہیں۔ مطالعہ یا کتب بینی آپ کے لیے ایک اچھا مشغلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ اپنی پسند کی کتابیں لائبریری سے لے کر بھی پڑھ سکتے ہیں اور چند اچھی کتابوں کےلیے کچھ بجٹ بھی مختص کرسکتے ہیں۔ اسی طرح باغبانی بھی ایک صحت مند مشغلہ ہے، پودے لگانا، ان کی دیکھ بھال کرنا نہ صرف ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ آپ کو ذہنی سکون بھی دیتا ہے۔

اس کے علاوہ نئی جگہوں کی سیر کرنا، نت نئے تجربات سیکھنا، خاص طور پر کوئی ہنر سیکھنا زندگی کو اور بھی پر لطف بنادیتا ہے۔ یاد رکھیں زندگی جینے کا مزا صرف تب آتا ہے جب آپ کے سامنے کوئی مقصد ہو، جب زندگی میں کوئی مقصد نہ رہے تو پھر زندگی جی نہیں جاتی بلکہ گزاری جاتی ہے۔

کچھ نیا کرنے کی خواہش انسان کی ترقی کی بنیاد ہے، یہی جذبہ اسے نئی مہارتیں سیکھنے، نئے مقامات کی سیر کرنے، مختلف کتابیں پڑھنے، تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے، سماجی بہبود کے کام کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں نہ صرف وہ خود مطمئن اور خوش رہتے ہیں بلکہ معاشرے کےلیے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔

زندگی زندہ دلی کا نام ہے، اس میں خوش رہنے کے لیے تبدیلی اور تنوع ضروری ہے۔ روٹین سے بچنے کےلیے کبھی کبھار زندگی کو ایسی ڈگر پر چلانا ضروری ہے جس سے آپ کا ذہن تازہ دم ہو اور آپ معمول کی سرگرمیاں بہترین انداز سے نبھانے کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story