امریکا کے نئے حملے، ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے 13 جولائی کو ایران کے مختلف فوجی اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی مکمل کی، جس میں متعدد ساحلی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے بیان کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی یہ فوجی کارروائی امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 10:15 بجے اختتام پذیر ہوئی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقوں میں موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے جدید اور انتہائی درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے، جن کے ذریعے ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور بحری فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
امریکی فوج نے مزید بتایا کہ اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں اور خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہازوں پر حملے کی اطلاعات دی گئی ہیں، جس کے باعث عالمی برادری کو خطے کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026
امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے ان تازہ حملوں کے بعد مزید ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں عالمی تجارت اور تیل کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔