نیب اپیلیں سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے سے متعلق قانون کو چیلنج کر دیا گیا

درخواست گزار کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کو معمول کی فوجداری اپیلوں کا فورم بنانا اس کے آئینی مینڈیٹ کے خلاف ہے

جوڈیشل ایکٹیوزم نے نیب اپیلیں سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا قانون اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ،نیب اپیلیں سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنا آئین سے متصادم ہے۔

 ایڈوکیٹ اظہر صدیق زریعے  دائر درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ پارلیمنٹ عام قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات تبدیل نہیں کر سکتی۔

نیب آرڈیننس کی نئی دفعہ 32A سپریم کورٹ کے آئینی اپیلیٹ دائرہ اختیار کو غیر آئینی طور پر محدود کرتی ہے،نیب اپیلیں سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنا آئین سے متصادم ہے۔

دفعہ 32A آئین کے آرٹیکلز 8 ، 25 ، 175 ، 185 ، 189 اور 239 کی خلاف ورزی ہے،وفاقی آئینی عدالت کو معمول کی فوجداری اپیلوں کا فورم بنانا اس کے آئینی مینڈیٹ کے خلاف ہے۔

اس ترمیم سے نیب مقدمات کے لیے امتیازی اور متوازی اپیلیٹ نظام قائم کیا گیا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 32A کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کرے،دفعہ 32A کے نفاذ کو حتمی فیصلے تک فوری طور پر معطل کیا جائے۔

Load Next Story