آبنائے ہرمز جنگ یا امریکی دباؤ سے نہیں کھلے گی، ایران کا دوٹوک مؤقف
تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جنگ، امریکی دباؤ یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ایرانی عوام کے حقوق اور ایران کے مؤقف کا احترام ضروری ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جنگ، شرارت یا امریکی جارحیت کے ذریعے دوبارہ نہیں کھلے گی۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی کا واحد راستہ ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور ایران کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی اور فوجی حملوں کے بعد ایران اپنے دفاعی مؤقف پر قائم ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا پابند ہے، خصوصاً ’اسلامی انقلاب کے شہید رہنما‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کی کامیابی ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔