پاسدارانِ انقلاب پر برطانوی پابندی کا منصوبہ، ایران نے شدید مذمت کر دی

بیان میں کہا گیا کہ ایران ایسے اقدامات کو دوطرفہ تعلقات اور سفارتی اصولوں کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے

تہران: ایران نے برطانیہ کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی حمایت پر پابندی عائد کرنے کے مجوزہ منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے خلاف اور غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ اقدام دشمنی پر مبنی، بلاجواز، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران ایسے اقدامات کو دوطرفہ تعلقات اور سفارتی اصولوں کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے اور برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرے۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں ایک ایسے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اسلامی انقلابی گارڈ کور کی حمایت یا اس سے وابستہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

اس منصوبے میں ایک ایسے ایران سے منسلک گروہ کے خلاف بھی کارروائی شامل ہے جس پر برطانیہ میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایران نے ان الزامات اور پابندیوں کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد ایران پر مزید دباؤ بڑھانا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور برطانیہ کے تعلقات پہلے ہی مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں، جبکہ حالیہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ اس منصوبے کو عملی شکل دیتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ یورپ اور ایران کے سفارتی روابط پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story