جامعہ کراچی: وائس چانسلر کی تقرری کیلئے 40 امیدواروں کے انٹرویوز مکمل

تلاش کمیٹی تین موزوں امیدواروں کے نام کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کو بھجوائے گی

سندھ کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے انٹرویوز کا مرحلہ منگل کو مکمل ہوگیا۔ 40 سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمانے انٹرویو کے لیے تلاش کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، انٹرویوز مکمل ہونے کے بعد تلاش کمیٹی تین موزوں امیدواروں کے نام کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کو بھجوائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان انٹرویوز میں تجربے اور قابلیت کی بنیاد پر مقابلہ انتہائی سخت رہا اور تلاش کمیٹی کو کئی ایک پوٹینشل امیدواروں میں سے کسی تین کے انتخاب میں اتفاق رائے کرنا مشکل ہورہا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ نوید شیخ، سیف الرحمن، این ای ڈی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر شہنیلا زرداری، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر معظم علی خان، میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی، لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی، ایچ ای سی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا القیوم، ڈاکٹر شبیب الحسن، ڈاکٹر انیلا امیر ملک اور ڈاکٹر بلقیس گل سمیت کچھ اور بھی ایسے امیدوار ہیں جو انٹرویوز کے بعد اب پوٹینشل امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی انٹرویو میں شریک نہیں ہوئے ان کے عہدے کی مدت 28 جولائی کو پوری ہورہی ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ انٹرویو پینل میں شامل کچھ اراکین نے امیدواروں کو اس نگاہ سے بھی پرکھنے کی کوشش کی ہے کہ پوٹینشل امیدوار میں سے کونسے ایسے ہیں جو جامعہ کراچی کے ادارے آئی سی سی بی ایس کے یونیورسٹی سے علیحدگی کی کسی ممکنہ صورت میں بعض حکومتی اور اس سے جڑے بااثر حلقوں کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔تاہم، مجموعی طور پر پورا سرچ کمیٹی پینل اس پالیسی کا حصہ نہیں تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ جن تین امیدواروں کے ناموں کا پینل کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کو بھجوایا جائے گا انہیں اگلے مرحلے میں مذکورہ بالا قیاس پر اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑسکتی ہے۔تاہم، یاد رہے کہ آئی سی سی بی ایس کے پیٹرن انچیف تاحال ادارے کو یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کے حق میں نہیں اور آئی سی سی بی ایس کے گزشتہ اجلاس میں وہ اس بات کی جانب واضح اشارہ بھی دے چکے ہیں اگر کوئی امیدوار اس سوچ یا وعدے پر وائس چانسلر بننے میں کامیاب رہا تو اسے ممکنہ طور پر ڈاکٹر عطاء الرحمن اور ملازمین جامعہ کراچی کی جانب سے اپوزیشن مل سکتی ہے۔

Load Next Story