ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کے باوجود طبی فضلہ کھلے عام پڑے ہونے کا انکشاف
فوٹو فائل
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کراچی کے ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کی نگرانی سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے سارا ملبہ سیکریٹری ہیلتھ پر ڈال دیا ہے جبکہ 81 بچوں میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کے باوجود استعمال شدہ طبی فضلہ کھلے عام پڑا ہونے کا انکشاف ہوا ہے جہاں خطرناک طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا نظام تاحال مؤثر طور پر فعال نہیں ہو سکا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ولیکا اسپتال میں انسینیٹر روم کے باہر استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلودہ روئی اور دیگر متعدی طبی فضلہ کھلے عام پڑا ملا، جس نے انفیکشن کنٹرول، طبی فضلے کی محفوظ تلفی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور پاکستان کے طبی فضلہ سے متعلق قواعد کے تحت استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلودہ روئی، پٹیاں اور دیگر متعدی طبی فضلہ اسپتال کے اندر مخصوص رنگوں والے بائیو ہیزرڈ بیگز اور محفوظ کنٹینرز میں جمع کیا جاتا ہے۔
طبی فضلے کو عارضی طور پر محفوظ جگہ پر رکھنے کے بعد مقررہ وقت کے اندر انسینیٹر یا دیگر منظور شدہ طریقہ کار کے ذریعے تلف کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ نہ رہے جبکہ طبی فضلہ کھلے عام چھوڑنا یا مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف نہ کرنا انفیکشن کنٹرول کے اصولوں اور طبی فضلہ انتظامی ضوابط کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ طبی فضلے کی نگرانی یا اس کا چیک اینڈ بیلنس سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی براہِ راست ذمہ داری نہیں ہے، کمیشن اس وقت تک کسی اسپتال کا معائنہ، انسپیکشن یا ایڈوائزری جاری نہیں کرتا جب تک اسے باضابطہ شکایت موصول نہ ہو یا پھر سیکریٹری صحت سندھ کی جانب سے ہدایات جاری نہ کی جائیں۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے اس مؤقف پر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر محبوب نورانی کا کہنا تھا کہ 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق جیسے سنگین سانحے کے بعد بھی اگر ریگولیٹری ادارہ اپنی ذمہ داری سے لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو اس کے کردار اور افادیت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، طبی فضلے کی محفوظ تلفی اور مریضوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا صرف اسپتال انتظامیہ ہی نہیں بلکہ نگرانی کرنے والے اداروں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے، اگر ریگولیٹری ادارے صرف شکایات کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہوگی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ طبی فضلہ بروقت اور محفوظ انداز میں تلف نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف اسپتال کا عملہ بلکہ مریض، تیماردار، صفائی کرنے والا عملہ اور طبی فضلہ اٹھانے والے افراد بھی مختلف متعدی امراض کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ سرنجیں اور خون سے آلودہ طبی سامان اگر مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف نہ کیا جائے تو یہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ولیکا اسپتال میں 81 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد صوبائی حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، متعدد ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جا چکی ہے جبکہ مختلف انکوائریاں جاری ہیں تاہم اسپتال میں طبی فضلہ تلف کرنے کے نظام کی صورت حال کے پیش نظر انفیکشن کنٹرول کے بنیادی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد اور ریگولیٹری نگرانی کے حوالے سے اب بھی کئی اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
ولیکا اسپتال میں انکوائری کمیٹی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے
کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کے بعد آڈٹ افسران کی معطلی کے فیصلے پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ طبی نگرانی سے براہِ راست تعلق نہ رکھنے والے افسران کے خلاف کارروائی پر انکوائری کے طریقہ کار اور ذمہ داریوں کے تعین پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
معطل کیے گئے آڈٹ افسر توقیر احمد نے ردعمل میں کہا کہ کسی بھی اسپتال میں مریضوں کی طبی نگرانی، انفیکشن کنٹرول، صفائی اور وارڈز کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ایڈمنسٹریٹر پر عائد ہوتی ہے جبکہ آڈٹ افسر کا کام مالی اور انتظامی امور کا جائزہ لینا ہے، نہ کہ وارڈز میں جا کر طبی آلات یا سرنجوں کی جانچ کرنا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی نے نان ٹیکنیکل افسران کو معطل کیا ہے جبکہ اس وقت تعینات انتظامی افسران کے کردار کا جائزہ لینے کے بجائے انہیں تحقیقات کا حصہ بنا دیا گیا۔
توقیر احمد نے دعویٰ کیا کہ جب اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آئے تو اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر وکیل الدین کمال شاہ تعینات تھے تاہم بعد میں انہیں ہی انکوائری کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا، جس سے تحقیقات کی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داری اسپتال کے مجموعی انتظامی اور انفیکشن کنٹرول نظام کی نگرانی ہے تو ان کے کردار کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے، متاثرہ خاندانوں اور بعض متعلقہ افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ انکوائری کے بجائے ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین میرٹ پر ہو سکے۔