آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلیے 200 سے زائد غیر ملکی جہازوں نے اجازت حاصل کی؛ ایران
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 200 سے زائد غیر ملکی تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اس کی نئی قائم کردہ اتھارٹی سے رابطہ کیا اور ٹرانزٹ کی اجازت حاصل کی۔
ایرانی حکام کے مطابق پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے تین ہفتوں میں 200 سے زائد غیر ملکی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے اتھارٹی سے رابطہ کیا۔
اتھارٹی کا مزید کہنا ہے کہ بیشتر جہازوں کو نہ صرف گزرنے کی اجازت دی گئی بلکہ انھیں انشورنس کوریج بھی فراہم کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول
یاد رہے کہ ایران نے رواں سال پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی قائم کی تھی جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا اور اس آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کے دعوے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ایران کا مؤقف رہا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں تھی بلکہ صرف انھی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی تھی جو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرتے تھے۔
تازہ ترین صورتحال
حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد خلیج میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تاہم بین الاقوامی شپنگ ذرائع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں محدود پیمانے پر بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
متعدد تجارتی جہاز ایرانی حکام سے رابطے کے بعد محتاط انداز میں اس راستے کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ کئی بڑی شپنگ کمپنیاں اب بھی متبادل راستوں یا سفر مؤخر کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی اور امریکا بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔
عالمی معیشت پر اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے، توانائی کے بحران اور سپلائی چین میں خلل کا باعث بن سکتی ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہوئی تو نہ صرف خلیجی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔