پہاڑ اپنے لوگوں کو پہچانتے ہیں
زندگی میں بعض احساسات ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک لفظوں کا لباس نہیں پہنتے۔ وہ دل کے کسی خاموش گوشے میں پڑے رہتے ہیں، پھر اچانک ایک دن کسی معمولی سے واقعے کے بہانے اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
میرے لیے بھی ایسا ہی ایک احساس اسلام آباد کے مارگلہ پہاڑوں کی ایک چٹان پر بیٹھے ہوئے جاگا، جب سانسیں معمول سے کچھ زیادہ تیز تھیں اور نگاہیں سامنے بلند چوٹیوں پر جمی ہوئی تھیں۔اسی لمحے مجھے اپنے ایک بزرگ کی بات یاد آئی۔ وہ کہا کرتے تھے’زمین اپنے مالک کے قدم پہچانتی ہے اور دعا دیتی ہے‘۔ بچپن میں یہ جملہ ایک دیہاتی بزرگ کی بات محسوس ہوتا تھا لیکن عمر گزرنے کے ساتھ انسان جان لیتا ہے کہ بزرگوں کی بعض باتیں کتابوں سے نہیں زندگی سے سیکھی جاتی ہیں۔ مارگلہ کی اس چٹان پر بیٹھ کر پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ صرف زمین ہی نہیں پہاڑ بھی اپنے لوگوں کو پہچانتے ہیں۔
میرا بچپن وادی سون میں گزرا ہے۔ ایسی وادی جہاں پہاڑ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ صبح سورج کی پہلی کرن سے پہلے پرندے جاگ جاتے ہیں۔ تیتر کی آواز کسی ڈھلوان سے ابھرتی ہے، چکور دوسری طرف سے جواب دیتا ہے، کوئل اپنی مخصوص لے میں خاموشی کو موسیقی میں بدل دیتی ہے اور بے شمار ننھے پرندے شاخوں پر بیٹھ کر ایسا سماں باندھتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے پوری وادی اپنے رب کی حمد میں مصروف ہو۔ ہوا بھی شہروں کی ہوا جیسی نہیں ہوتی، وہ کہو، پھلاہی اور سنتھے کے درختوں سے لپٹ کر گزرتی ہے اور ایسی مہک لے آتی ہے جو صرف سانسوں میں نہیں یادداشت میں بھی بس جاتی ہے۔ بعض خوشبوئیں انسان عمر بھر نہیں بھولتا کیونکہ وہ کسی عطر کی نہیں بلکہ اپنی مٹی کی ہوتی ہیں۔
ہمارے بچپن کی دنیا انھی پہاڑوں کے درمیان آباد تھی۔ چرواہوں کے قدموں سے بنی ہوئی پگڈنڈیاں ہماری شاہراہیں تھیں۔ انھی راستوں پر دوڑتے، پھسلتے، گرتے اور سنبھلتے ہوئے زندگی کا پہلا سبق سیکھا۔ دور کسی پہاڑی سے چرواہے کی بانسری کی آواز آتی تو شام کا سناٹا بھی کسی خوبصورت دھن میں بدل جاتا۔ درختوں کے جھنڈوں میں سے گزرتی ہوا کی سرسراہٹ آج بھی کانوں میں اسی طرح محفوظ ہے جیسے کوئی پرانی مگر محبوب نظم ہو۔پہاڑوں میں رہنے والے لوگ شاید اسی لیے کم بولتے ہیں کیونکہ وہ خاموشی کی زبان سمجھتے ہیں۔
انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات لفظوں سے نہیں کہی جاتی۔ بعض احساسات ہوا کے جھونکوں، چشموں کی روانی اور پرندوں کی آوازوں میں بھی سنائی دیتے ہیں۔چند روز پہلے لاہور سے آئے ہوئے دوست امین ناصرنے مارگلہ کی ایک چوٹی سر کرنے کی دعوت دی۔ میں نے بلا تردد حامی بھر لی۔ دل میں یہ اعتماد تھا کہ جس نے عمر کا بڑا حصہ پہاڑوں میں گزارا ہو، اس کے لیے کیا مشکل ۔ خوشگوارموسم میں بادل پہاڑوں کے کندھوں پر یوں ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے سفید چادر اوڑھا دی ہو۔ درختوں کے پتوں پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے اور ٹھنڈی ہوا انسان کے اندر تک تازگی اتار رہی تھی۔
ابتدا میں میرے قدم پُراعتماد تھے لیکن کچھ ہی دیر بعد میرے دوست آگے نکل گئے ۔ وہ باقاعدہ ٹریکنگ کرتے تھے جب کہ میرے پاس صرف یادیں تھیں۔ سانس دھیرے دھیرے بوجھل ہونے لگی۔ ٹانگوں میں کھچاؤ محسوس ہوا اور آخرکار میں ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔سامنے مارگلہ اپنی پوری شان کے ساتھ کھڑا تھا۔ہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔ اسی لمحے دل میں ایک عجیب خیال آیا۔ وادی سون کے پہاڑوں نے تو کبھی میرے قدم اس طرح نہیں روکے تھے۔ وہاں نہ چڑھائی اجنبی لگتی تھی اور نہ راستے بے وفا محسوس ہوتے تھے۔ تب پہلی بار خیال آیا کہ شاید ہر پہاڑ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ کچھ پہاڑ پہلی ملاقات میں ہی آپ کو اپنا لیتے ہیں اور کچھ پہلے آپ کا امتحان لیتے ہیں۔شاید اسی لیے انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچ جائے، اس کے قدم آخرکار اسی مٹی کا راستہ ڈھونڈتے ہیں جہاں اس نے پہلی بار چلنا سیکھا تھا۔چٹان پر بیٹھے بیٹھے مجھے اپنے بزرگوں کی زمینیں یاد آنے لگیں۔ وہ زمینیں جو پہاڑوں سے ملی ہوئی تھیں۔ بارانی علاقوں میں پہاڑ سے متصل زمین ہمیشہ نعمت سمجھی جاتی ہے۔
بارش برستی ہے تو پہاڑ اپنے دامن میں جمع ہونے والا پانی کھیتوں کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔ اس پانی کے ساتھ جنگلی جڑی بوٹیوں کی غذائیت، پتے اور مٹی کی زرخیزی بھی اترتی ہے اور یوں قدرت خود فصلوں کے لیے بہترین کھاد مہیا کر دیتی ہے۔ ہمارے بزرگ اسے سائنس کی زبان میں بیان نہیں کرتے تھے، وہ صرف اتنا کہتے تھے کہ پہاڑ رزق بھی دیتے ہیں اور برکت بھی۔وقت نے ہمیں بہت کچھ سکھایا لیکن فطرت کو پڑھنے کا سلیقہ شاید ہم کہیں پیچھے چھوڑ آئے۔ ہم نے ترقی کے نام پر بلند و بالا عمارتیں تو کھڑی کر لیں مگر پہاڑوں کی خاموش دانش سے دور ہوتے گئے۔ حالانکہ پہاڑ انسان کو وہ سبق دیتے ہیں جو کسی درسگاہ میں نہیں ملتا۔ وہ صبر سکھاتے ہیں، استقامت سکھاتے ہیں، خاموشی کا وقار سکھاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر بلندی تک پہنچنے کے لیے ایک ایک قدم رکھنا پڑتا ہے۔
یہاں جلد ی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔مارگلہ کی اس مختصر سی چڑھائی نے مجھے احساس دلایا کہ نسبت صرف جغرافیے سے پیدا نہیں ہوتی وقت سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ برسوں کی رفاقت، بچپن کی شرارتیں، جوانی کے خواب، بارشوں کی خوشبو، درختوں کے سائے اور پرندوں کی آوازیں مل کر ایک ایسا رشتہ بناتی ہیں جو کسی نقشے میں دکھائی نہیں دیتا مگر انسان کی روح پر ہمیشہ نقش رہتا ہے۔
مارگلہ کے دامن سے نکل کر دماغ میں ایک سوال ابھرا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ پہاڑ اپنے لوگوں کو پہچان لیتے ہیں مگر بعض اوقات انسان اپنے ہی لوگوں کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔اسلام آباد انھی پہاڑوں کے سائے میں آباد ہے۔ یہیں اقتدار کے ایوان ہیں، فیصلوں کے مراکز ہیں، پالیسیاں بنتی ہیں اور قوم کے مستقبل کے نقشے تیار کیے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان بلند عمارتوں تک پہنچتے پہنچتے انسان کا زمین سے رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنی جڑوں، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے فاصلہ اختیار کر لیتا ہے جب کہ قدرت کا نظام اس کے برعکس ہے۔ پہاڑ جتنے بلند ہوتے ہیں، اتنے ہی فیاض ہوتے ہیں۔ ان کی چوٹیوں پر برف جمتی ہے مگر اس کا پانی وادیوں میں بسنے والوں کی پیاس بجھاتا ہے۔
درخت خود دھوپ میں کھڑے رہتے ہیں اور سایہ دوسروں کو دیتے ہیں۔ بادل بلندی پر رہتے ہیں مگر برستے زمین پر ہیں۔ دریا اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے ہر بستی کو زندگی دیتے جاتے ہیں۔ فطرت کی ہر نشانی یہی سبق دیتی ہے کہ بلندی کا اصل حسن خدمت میں ہے برتری میں نہیںہے۔ شاید یہی سبق ہم بھول گئے ہیں۔ منصب بلند ہو گئے مگر ظرف اتنا بلند نہ ہو سکا۔ عمارتیں اونچی ہو گئیں مگر دلوں کے دروازے چھوٹے ہوتے گئے۔ ترقی کے پیمانے بدل گئے مگر انسان کو پہچاننے کا معیار بدلنا نہیں چاہیے تھا۔مارگلہ نے مجھے اپنی چوٹی تک نہیں پہنچنے دیالیکن اس نے مجھے خالی ہاتھ بھی واپس نہیں بھیجا۔ اس نے مجھے اپنے پہاڑوں کی قدر نئے سرے سے سکھائی۔
اس نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ انسان کی اصل شناخت اس کے عہدے، شہر یا شہرت سے نہیں، بلکہ اس مٹی سے ہوتی ہے جس نے اسے پہلی بار اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سکھایااور شاید انسان کی اصل عظمت بھی یہی ہے کہ وہ زندگی کی کسی بھی بلندی پر پہنچ جائے مگر اپنی پہلی پگڈنڈی، اپنی پہلی مٹی اور اپنے لوگوں کی پہلی آواز کبھی نہ بھولے۔ یہی نسبت انسان کو جڑوں سے جوڑے رکھتی ہے اور جس درخت کی جڑیں سلامت رہیں وقت کی کوئی آندھی اسے زیادہ دیر تک بے آسرا نہیں کر سکتی۔