پیپلز پارٹی عوامی جماعت

پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت کہلاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے عوامی جماعت کہلانے کا سہرا وقار مہدی اور مسرور احسن جیسے رہنماؤں کو جاتا ہے۔



پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت کہلاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے عوامی جماعت کہلانے کا سہرا وقار مہدی اور مسرور احسن جیسے رہنماؤں کو جاتا ہے۔ وقار مہدی پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل ہیں او رایک دفعہ پھر ایوان بالا سینیٹ کے رکن بھی ہیں۔ اس دفعہ وقار مہدی سینیٹ کی ضمنی نشست کے انتخاب میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ وقار مہدی کا تعلق ایک ترقی پسند خاندان سے ہے۔

ان کے والد سید اصغر مہدی زیدی ایک ترقی پسند شاعر تھے اور ان کا تخلص اصغر مہدی نظمی تھا۔ نظمی صاحب کمیونسٹ پارٹی کے ہمدردوں میں شامل تھے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن تھے۔ نظمی صاحب نے کئی کتابیں تحریر کی ہیں جن میں ان کا کلام بھی شامل تھا۔ ان کے گھرانے کا تعلق بھارت کی ریاست یوپی کے شہر مظفر نگر سے تھا۔

نظمی صاحب نے زندگی کا ایک حصہ لکھنؤ میں گزارا۔ وہ کے ڈی اے میں ملازم تھے، ان کی ڈیوٹی دملوٹی میں ہوتی تھی۔ نظمی صاحب کے دوستوں میں خاص طور پر انجمن ترقی پسند مصنفین کے سابق رہنما ڈاکٹر مظہر حیدر، معروف آرٹسٹ لیاقت حسین اور وارث رضا شامل تھے۔ وارث رضا نظمی صاحب کے ساتھ مختلف محفلوں کی یادوں کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔ وقار مہدی نے ہمیشہ طلبہ، مزدوروں اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

وفاق کے زیر انتظام وفاقی اردو یونیورسٹی گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اقسام کے بحرانوں کا شکار ہے، ان میں تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی بحران شامل ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ، عمال، ریٹائرڈ اساتذہ و عمال تین مہینوں سے تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں۔ 2017سے ریٹائر ہونے والے اساتذہ اور عمال کو واجبات نہیں ملے۔ 2017  سے 2026 تک 10 ریٹائرڈ اساتذہ اور 5 سے زیادہ غیر تدریسی ملازمین انتقال کرچکے ہیں۔ کئی ریٹائرڈ اساتذہ فالج، کینسر اور گردے کے امراض میں مبتلا ہیں۔

کچھ کو ڈاکٹروں نے دل کا بائی پاس کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح کئی ملازمین 22 ماہ سے ہاؤس سیلنگ نا ملنے پر مکان خالی کرنے پر مجبور ہیں اور ایک چند اساتذہ کے بچوں کی فیس جمع نہ ہونے پر ان کے بچوں کی امتحانات میں شرکت روک دی گئی ہے۔ وقار مہدی تندہی سے اردو یونیورسٹی کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔ انھوں نے تعلیم کی وزیر مملکت سے ملاقات کرکے انھیں اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے سامنے اردو یونیورسٹی کا مسئلہ پیش کریں اور اس کا حل نکالیں۔

وقار مہدی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ سے بھی ملاقاتیں کیں اور سینیٹ میں وزیر تعلیم کی توجہ اردو یونیورسٹی کی خراب صورتحال کی طرف مبذول کرائی ہے۔ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعا ت ونشریات کے رکن ہیں۔انھوں نے کمیٹی میں صحافیوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ سینیٹ کی اس کمیٹی کے ارکان کی یہ رائے ہے کہ جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے آزاد میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-A کے تحت آزادئ صحافت کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے سول و پولیٹکل رائٹس کنونشنز پر دستخط کیے ہیں۔ اس بناء پر اور زیادہ ضروری ہے کہ حکومت آزادئ صحافت کا تحفظ یقینی بنائے۔ وقار مہدی نے صحافیوں کے حالاتِ کار میں ابتری، صحافیوں اور دیگر عملہ کی برطرفی کا ہمیشہ ذکر کیا ہے۔

وقا رمہدی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے قائد اعظم کے مزار کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کا اجلاس کراچی کے کمشنر ہاؤس میں منعقد کیا۔ اس اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ مزار قائد کی اوپری منزل اور نچلے حصہ میں عام لوگوں کے جانے پر 2023میں پابندی لگادی گئی تھی۔ یہ پابندی سیکیورٹی تھریٹ کی بناء پر لگائی گئی ۔ وقار مہدی نے اس اجلاس میں حیرت کا اظہار کیا کہ تین سال گزرنے کے باوجود اس پابندی کے خاتمے پر غور نہیں کیا گیا۔ وقار مہدی کا واضح موقف تھا کہ پاکستان کے بانی کے مزار پر جانے کے لیے ایک عام آدمی اور وی آئی پی میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے اور عام آدمی کو بھی مزارِ قائد میں جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوجوانوں کی مزار قائد آمد کے لیے ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور مزار قائد کو عام طالب علموں اور تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے نوجوانوں کے گروپوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ مزار قائد پر عام آدمی کے جانے کے لیے طریقہ کار آسان اور سہل بنانے کے لیے کمشنر کراچی کی قیادت میں کمیٹی قائم کی گئی جو مزارِ قائد کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے عام آدمی کے مزار میں داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے ایک دیرپا پالیسی بنائے گی۔ اس اجلاس میں یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ مزار قائد کا نظام چلانے کے لیے صرف سندھ حکومت امداد دیتی ہے۔

اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ وفاق، پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو عرضداشت پیش کی جائے کہ وہ بھی مزار قائد کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے گرانٹ فراہم کریں، اگر وفاق اور دیگر صوبے گرانٹ فراہم کریں اور اگر مزار کی انتظامیہ اس رقم کو شفافیت کے اعلیٰ معیار کے مطابق خرچ کرے تو عام آدمی کو تمام وہ سہولتیں فراہم کی جائیں جو وی آئی پی کو فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اجلاس کے اختتام پر وقار مہدی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ مزار قائد کے سامنے والے پارک پر ایک اسٹیج تعمیر کیا جائے ۔

سننے اور دیکھنے والوں کے لیے آرام دہ کرسیاں نصب کی جائیں تو پھر سیاسی جماعتوں پر زور دیا جائے کہ وہ اسی پارک میں جلسہ کریں۔ وقار مہدی کے نظریہ کے مطابق مزارِ قائد کے سامنے اگر خالی زمین کو برطانیہ کے ہائیڈ پارک کی طرح آزاد ادارہ قرار دیا جائے اور تمام سیاسی جماعتیں ایک نئے میثاق پر دستخط کریں تو یہ پارک آزادئ اظہار کا مرکز بن سکتا ہے۔

کراچی میں ایسے مرکز کے قیام سے ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھے گا۔ تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ مسرور احسن اور وقار مہدی ایوان میں تنہا ہوتے ہیں۔ ان کی جماعت کے دیگر اراکین اس طرح عوام کے مسائل نہیں اٹھاتے جس طرح یہ دونوں رہنما اٹھاتے ہیں۔ کراچی کے ایک سینئر صحافی کاکہنا ہے کہ مسرور احسن اور وقار مہدی ترقی پسند نظریہ کے تابع ہیں اور دیگر اراکین کا نظریہ کوئی اور ہے۔