صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی صدر کا ردعمل سامنے آ گیا

اگر جنگی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ مسعود پزشکیان

تہران:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات کے بعد ایران نے بھی واضح اور سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سرزمین کے ہر حصے کا دفاع پوری قوت سے کیا جائے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی سے خطاب میں کہا کہ ایران کو دباؤ یا دھمکیوں سے جھکایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر جنگی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ایران کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو اپنے نتائج پر نظر ڈالنی چاہیے۔

ان کے بقول ایرانی قوم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گی۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ مخالف فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگی راستہ اختیار کر چکا ہے اس لیے اب اس یادداشت کی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کی پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹجک ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ہے جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story