وفاقی آئینی عدالت میں ایرانی ڈیزل اسمگلنگ سے متعلق ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت

عدالت نے مالِ مقدمہ واپس کرنے پر حکمِ امتناع جاری کرنے کی کسٹمز کی استدعا مسترد کر دی

وفاقی آئینی عدالت میں ایرانی ڈیزل اسمگلنگ سے متعلق ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے مالِ مقدمہ واپس کرنے پر حکمِ امتناع جاری کرنے کی کسٹمز کی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

دورانِ سماعت کسٹمز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسمگل شدہ ڈیزل پکڑ کر نیلام کیا جاتا ہے، جبکہ دو آئل ٹینکر سڑک سے پکڑے گئے اور چار اسٹوریج ایریا سے تحویل میں لیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر تحقیقات کے پہلے ایف آئی آر معطل اور پھر کالعدم قرار دے دی گئی، جبکہ کیس ختم ہونے کے باعث مالِ مقدمہ بھی واپس کروایا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسٹوریج سینٹر ڈی سیل کرنے پر کسٹمز کو اعتراض نہیں۔

جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ نیلامی کے ایک ٹینکر کا اجازت نامہ دس دس ٹینکر لانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ شواہد کے بغیر حقائق کا تعین کیسے ہو سکتا ہے؟ جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر صرف بدنیتی ثابت ہونے پر ہی خارج ہو سکتی ہے، اس کیس میں بدنیتی کہاں ہے؟

اسٹوریج کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ واحد ثبوت صرف ڈرائیور کا بیان ہے کہ نیلامی کا اجازت نامہ دوبارہ استعمال ہو رہا ہے۔ وکیل احسن بھون نے کہا کہ مقدمے کی آڑ میں پورا اسٹوریج سینٹر سیل کر دیا گیا، جہاں ریفائنری کا آئل بھی موجود ہوتا ہے۔

Load Next Story