امریکی بحری ناکہ بندی پر ایران کا خطے کے تمام برآمدی راستوں کو بند کرنے کی دھمکی
ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی توانائی برآمدات کو روکا گیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے استعمال ہونے والے دیگر تیل اور گیس کے برآمدی راستے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی تیل اور گیس کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رہیں تو خطے میں توانائی کی ترسیل کے دیگر راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔
تسنیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تیل اور گیس کی برآمدات یا سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔ یہ بیان امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے 15 جولائی سے ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کے خلاف بحری پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں کو ہدف بنا رہی ہیں۔
یہ اقدام اس عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کیا گیا ہے جس کے دوران کچھ عرصے کے لیے پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد واشنگٹن نے دوبارہ سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان کی برآمدات کو روکا گیا تو وہ خطے میں توانائی کی سپلائی کے دوسرے راستوں پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایران ماضی میں بھی ایسی صورتحال میں علاقائی سطح پر کشیدگی بڑھانے اور آبنائے ہرمز کی اہمیت کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔