ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام، اسرائیلی فوجی کو 5 سال قید کی سزا
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایک فوجی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں ایک اسرائیلی فوجی کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
حکام کے مطابق ملزم پر جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران ایران کے مفاد میں جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دینے کا الزام ثابت ہوا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی کو ایران کی جانب سے سونپے گئے جاسوسی کے مختلف کام انجام دینے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔
بیان کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات اسرائیلی فوجی پولیس، اسرائیلی پولیس اور داخلی انٹیلی جنس ادارے شن بیت نے مشترکہ طور پر کیں، جن کی تحقیقات کے بعد فوجی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیا۔
اسرائیلی فوج نے سزا پانے والے فوجی کی شناخت یا اس کے انجام دیے گئے مبینہ جاسوسی مشنز کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی گئیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جنگی حالات میں حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچانا ایک سنگین جرم ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک میں جاسوسی اور انسدادِ جاسوسی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔