پی آئی اے کی نجکاری سے 10 ارب مل چکے 45 ارب باقی ہیں، حکام

روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے بڈنگ میں دو کمپنیاں مزید تھیں اب تک سٹی بینک کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، سیکریٹری نجکاری

فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) نجکاری سے اب تک 10 ارب روپے موصول ہوگئے ہیں جبکہ 45 ارب روپے کی ادائیگی تاحال نہیں کی گئی ہے۔

مشیر نجکاری محمد علی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں جو بھی معاہدے میں لکھا گیا ہے اس پر عمل ہورہا ہے، حکومت کو پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی فروخت سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے ملیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کو 10 ارب روپے موصول ہوگئے ہیں اور 45 ارب ملنا باقی ہیں اور یہ رقم 25 فیصد حصص منتقل کرنے کے بعد ملے گی جبکہ پی آئی اے انتظامیہ نے 80 ارب کمپنی میں انویسٹ کردیے ہیں۔

مشیر نج کاری نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن سحر کامران کے اعتراض پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے میں مزید 45 ارب روپے  لگائیں گے اور چند ہفتوں میں نئے جہاز خریدنا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ30  جون 2025 تک پی آئی اے کے کل اثاثوں کی مالیت 191.534 ارب روپے تھی اور پی آئی اے کے کل واجبات 182.430 ارب روپے ہیں، واجبات میں ملازمین کی پنشن کے واجبات 30.342 ارب روپے شامل ہیں۔

سیکریٹری نج کاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر کو ایک ارب 90 کروڑ روپے دینے تھے اور اب تک ایک ارب 70 کروڑ روپے ادا کردیے گئے ہیں اور مزید 20 کروڑ روپے کی ادائیگی ابھی کرنی ہے۔

رکن کمیٹی سحر کامران نے سوال کیا کہ پی آئی اے میں 80 ارب روپے کہاں لگے ہیں، جس پر مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا کہ80 ارب روپے جب اکاؤنٹ میں آئے تو اسی وقت شیئر دیے گئے ہیں۔

سیکریٹری نج کاری کمیشن نے اجلاس کو بتایا کہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے سرمایہ کار کا پروفائل چیک کریں گے، روزویلٹ ہوٹل کی نج کاری کے لیے سٹی بینک کو مالیاتی مشیر کے طور پر تقرر کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڈنگ میں دو کمپنیاں مزید تھیں اب تک سٹی بینک کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

Load Next Story