امریکا: ٹی ریکس کے ڈھانچے کی کروڑوں ڈالر میں ریکارڈ نیلامی
امریکا میں 6 کروڑ 70 سال قدیم ڈائنو سار کا ڈھانچہ کروڑوں ڈالر میں نیلام کر دیا گیا۔
امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا سے دریافت ہونے والے ٹی رینوسورس ریکس (ٹی ریکس) کے کروڑوں برس قدیم ڈھانچے کو سوتھبیز کی نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 5 کروڑ 13 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیا گیا، جس کے ساتھ ہی یہ دنیا کا سب سے مہنگے داموں نیلام ہونے والا فوسل بن گیا۔
یہ ڈھانچہ ’گَس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ نام ساؤتھ ڈکوٹا کے مویشی پالنے والے گیری ’گَس‘ لِکنگ کے نام پر رکھا گیا جن کی زمین پر یہ فوسل دریافت ہوا تھا۔ گیری لِکنگ 2022 میں، فوسل کی کھدائی شروع ہونے کے ایک سال بعد انتقال کر گئے تھے۔
سوتھبیز کے مطابق گَس کی لمبائی 38 فٹ، اونچائی 12.5 فٹ اور کھوپڑی 54 انچ لمبی ہے، جس کے باعث یہ اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے ٹی ریکس ڈھانچوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس ڈھانچے میں 183 فوسل ہڈیاں شامل ہیں، جو ہڈیوں کی تعداد کے لحاظ سے تقریباً 61 فی صد جبکہ مجموعی حجم کے اعتبار سے 75 سے 80 فی صد مکمل ہے۔
یہ فوسل ہیل کریک فارمیشن سے ملا، جو مونٹانا، وائیومنگ اور ڈکوٹا کی ریاستوں تک پھیلا ایک مشہور ارضیاتی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں 1902 میں ٹی ریکس کا ابتدائی ڈھانچہ بھی دریافت ہوا تھا اور اسی علاقے سے ملنے والے فوسلز کی بنیاد پر اس ڈائنوسار کو ٹی رینوسورس ریکس کا نام دیا گیا۔
اس سے قبل سب سے مہنگے نیلام ہونے والے فوسل کا ریکارڈ ایپیکس اسٹیگوسورس کے پاس تھا، جسے 2024 میں ارب پتی سرمایہ کار کین گرفن نے 4 کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ یہ فوسل اس وقت نیویارک کے میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں چار سالہ قرض پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔