اسرائیل امریکا میں عوامی حمایت کھو بیٹھا ہے، نائب صدر جے ڈی وینس کا بڑا اعتراف

حالیہ سروے رپورٹس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے اور یہ ایک سادہ، واضح اور ناقابلِ نظرانداز حقیقت بن چکی ہے۔

امریکی نائب صدر نے معروف پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے تاہم وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

گفتگو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل امریکی سیاست پر اثر و رسوخ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو جے ڈی وینس نے جواب دیا کہ ’جی ہاں، اسرائیل یقینی طور پر اس معاملے میں کافی مؤثر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں، لیکن امریکی عوام میں اسرائیل کے بارے میں رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کا اثر مستقبل کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ادھر حالیہ سروے رپورٹس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایک امریکی میڈیا سروے کے مطابق صرف 32 فیصد امریکی شہری اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ 39 فیصد افراد کی رائے منفی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکی عوام کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں، آزاد ووٹرز اور نوجوان طبقے میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں جہاں 34 فیصد افراد اسرائیل کے حامی تھے، وہ شرح کم ہو کر 17 فیصد رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق غزہ کی جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکی داخلی سیاسی بحث نے عوامی رائے پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں اسرائیل سے متعلق پالیسیوں اور عوامی حمایت پر نئی بحث جاری ہے، جس کے اثرات مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story