مون سون میں چکن اور مٹن کھانے سے پہلے احتیاط ضروری، ماہرین نے اہم ہدایات جاری کردیں

غیر معیاری، نیم پکا یا ضرورت سے زیادہ گوشت مختلف بیماریوں اور صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے

چکن اور مٹن دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے گوشت میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے مقبول ہیں بلکہ پروٹین، وٹامنز اور ضروری معدنیات سے بھرپور ہونے کی وجہ سے متوازن غذا کا اہم حصہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔

تاہم ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ برسات کے موسم میں ان دونوں اقسام کے گوشت کا استعمال احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے، کیونکہ اس دوران خوراک سے پیدا ہونے والے انفیکشن اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہر غذائیت ڈاکٹر رینوکا مائنڈے کے مطابق مون سون میں ہمیشہ تازہ، صاف اور معیاری گوشت خریدنا اور استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق گوشت کو اچھی طرح پکانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ نیم پکا یا زیادہ دیر تک کھلے ماحول میں رکھا ہوا گوشت بیکٹیریا کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے، جس سے معدے اور آنتوں کے انفیکشن سمیت مختلف طبی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چکن اعلیٰ معیار کی پروٹین فراہم کرتا ہے اور مٹن کے مقابلے میں اس میں چکنائی نسبتاً کم ہوتی ہے، اسی لیے اسے ہضم کرنا بھی نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔ چکن پٹھوں کی مضبوطی اور جسمانی توانائی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کا استعمال بھی اعتدال میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پروٹین کے ہاضمے کے دوران جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے، اس لیے ایسے افراد جو جسم میں گرمی، تیزابیت یا پِتّ کی شکایات کا شکار ہوں، انہیں چکن ضرورت سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر رینوکا مائنڈے نے مزید بتایا کہ چکن کی جلد میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں غیر سیر شدہ چکنائی بھی موجود ہوتی ہے، لیکن دل کے امراض یا کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے جلد سمیت چکن کھانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب مٹن آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جو خون کی کمی دور کرنے، اعصابی نظام کو بہتر بنانے اور قوتِ مدافعت مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مٹن میں سیر شدہ چکنائی اور کیلوریز چکن کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے دل کے مریض، ہائی کولیسٹرول میں مبتلا افراد اور وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اس کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق مٹن کا زیادہ استعمال خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتا ہے، جس سے شریانوں کی تنگی اور دل کے دورے جیسے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن اور مٹن دونوں غذائیت کے اعتبار سے اہم ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب ہر فرد کی عمر، صحت اور طبی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔ اگر مقصد زیادہ پروٹین اور کم چکنائی والی غذا حاصل کرنا ہو تو چکن بہتر انتخاب ہے، جبکہ آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی کی صورت میں مٹن مناسب مقدار میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

غذائی ماہرین نے زور دیا ہے کہ مون سون کے موسم میں گوشت کھاتے وقت صفائی، تازگی اور مکمل پکانے کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ان کے مطابق مناسب مقدار میں استعمال کیا گیا چکن یا مٹن صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، لیکن غیر معیاری، نیم پکا یا ضرورت سے زیادہ گوشت مختلف بیماریوں اور صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

Load Next Story