کراچی میں ایک ارب مالیت کے 8 قیمتی کمرشل اور رہائشی پلاٹوں پر مبینہ جعل سازی کا انکشاف
کراچی میں ایک ارب مالیت کے 8 قیمتی کمرشل اور رہائشی پلاٹوں پر مبینہ جعل سازی کا انکشاف ہوا ہے، ڈی جی کے ڈی اے نے نوٹس لے کر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
ایکسپریس کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی میں مبینہ طور پر جعلی فائلوں کا سسٹم ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے، کے ڈی اے کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جعلی فائلوں کا منظم نیٹ ورک ادارے کے ریٹائرڈ افسران اور پرائیوٹ افسران مل کر چلارہے ہیں اور محکموں کے افسران ان کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں۔
ڈی جی کے ڈی اے نے گلستانِ جوہر، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا اور سرجانی ٹاؤن میں واقع قیمتی کمرشل اور رہائشی پلاٹوں میں کی گئی مبینہ سنگین جعلسازیوں پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ سیکریٹری کے ڈی اے کے دستخط سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے، ڈائریکٹر لینڈ کو پندرہ روز میں تحقیقات کے بعد جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جن 8 پلاٹوں کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ان میں ایس بی157 سیکٹر الیون اے سرجانی ٹائون کا کمرشل پلاٹ جس کا رقبہ875 اسکوائر یارڈ بتایا جاتا ہے اور مزید یہ کہ مذکورہ پلاٹ کو 2007ء کا مبینہ جعلی آکشن دکھاکر ٹھکانے لگادیا گیا۔
اسی طرح گلستان جوہر کا پلاٹ نمبرایس بی2 ایس ٹی10/A، پلاٹ نمبربی70 بلاک6 گلستان جوہر، پلاٹ نمبراے 104 بلاک6 گلستان جوہر، پلاٹ نمبربی159 بلاک7 گلستان جوہر کے علاوہ، فیڈرل بی ایریا بلاک7 کا پلاٹ نمبرBS-57، گلشن اقبال بلاک10 کا پلاٹ نمبر ایس ٹی 8/5 اور سرجانی سیکٹر6-C کا ایس بی15 کا قیمتی کمرشل پلاٹ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹوں کی مالیت تقریباایک ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے جو افسران کی مبینہ جعل سازیوں کی نذر کیے جانے کا الزام ہے۔
ڈائریکٹر لینڈ کو تحقیقات سپرد کیے جانے پر سینئر افسران اور شہری حلقوں نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے، قیمتی پلاٹوں میں جعل سازیوں کی تحقیقات قومی احتساب بیورو اور نیب اور ایف آئی اے سے کرانے کا مطالبہ کردیا گیا۔