سعودی عرب ہماری ریڈلائن ہے، پاکستان نے ایران کو اعلیٰ سطح پر آگاہ کردیا، خبرایجنسی

پاکستان کو حوثیوں کی کشیدگی پر تشویش ہے اور پاکستانی اہلکاروں کو یمنی سرحد کے قریب تعینات کردیا گیا ہے، ذرائع

فوٹو: فائل

غیرملکی خبرایجنسی نے پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ایران کو اعلیٰ سطح پر آگاہ کردیا ہے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور اس پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا۔

غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی عہدیدار اور دیگر ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہماری اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے ایران کو اعلیٰ سطح پر آگاہ کردیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور یہ ہماری سرخ لکیر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ان خدشات کی بنیاد پر کیا گیا کہ رواں برس کے اوائل میں ایرانی میزائل حملوں کے مقابلے میں حوثیوں کے حملوں سے بادل نخواستہ پاکستان کو تنازع میں دھکیلا جاسکتا ہے۔

دو پاکستانی عہدیداروں نے خبرایجنسی کو بتایا کہ پاکستانی فوجیوں کو یمن کے ساتھ سعودی سرحد کے قریب تعینات کردیا گیا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کار محمد عامر رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو توقع نہیں کر رہا تھا کہ کشیدگی اس قدر اچانک بڑھ جائے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں تشویش ہے کہ حوثیوں کی پھیلائی کشیدگی سے بحیرہ عرب میں جہازوں کی آمد ورفت متاثر ہوسکتی ہے، جو اہم تجارتی راستہ ہے جس پر پاکستان اور دیگر کئی ممالک کا انحصار ہوتا ہے اور وسیع تنازع روکنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے اور سعودی عرب کے مفادات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے جس پر دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فورسز کے لیے فوجی مداخلت کرنی ہوگی۔

اس حوالے سے جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت تمام فریقین کو سمجھانے میں مصروف ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے اپنے حملوں کا دائرہ سعودی عرب تک پھیلایا تو حالات تبدیل ہوسکتے ہیں۔

پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایرنی قیادت کے درمیان بڑھتے اختلافات پر اسلام آباد میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، صدر مسعود پزشکیا، وزیرخارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت ایرانی سیاسی رہنماؤں کے نکتہ نظر اور مقاصد پاسداران انقلاب کے خیالات سے مختلف شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار محمد علی نے بتایا کہ بظاہر ایران میں فیصلہ سازی میں فوجی اثرو رسوخ زیادہ ہے، جس سے پاکستان میں میں تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ رواں ہفتے کے شروع میں ایرانی وفد کا دورہ اسلام آباد حالیہ کشیدگی کے باعث مؤخر ہوا ہے، جس کے بارے میں اعلان نہیں کیا گیا تھا، ایرانی وزیرداخلہ اسکندر مومنی کی سربراہی میں وفد طے شدہ وقت کے دو دن بعد بدھ کو اسلام آباد پہنچا اور مذاکرات میں امریکا-ایران معاہدے کے بارے میں گفتگو سمیت مذاکرات کا توقع ہے۔

خبرایجنسی نے بتایا کہ اس حوالے سے دفترخارجہ سمیت دیگر اداروں کی جانب سے درخواست کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مستقل رابطے، مذاکرات اور سفارتی کا متبادل کچھ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی جنگ کو روک دیا تھا اور 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کرکے حتمی جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں سوئٹزرلینڈ اور قطر میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے تاہم تیسرے دور سے قبل ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کردیے۔

متعلقہ

Load Next Story