پیٹرول اور ڈیزل کتنا مہنگا ہونے کا امکان ہے؟ عوام پر بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ اوپر چلے گئے ہیں

(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

حکومت کی جانب سے آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں عوام پر مزید بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات پاکستان پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ اوپر چلے گئے ہیں اور نتیجتاً 18 جولائی سے نافذ ہونے والے نئے جائزے کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل 40 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے اور ایران امریکا کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے جبکہ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
📈
40 روپے
ڈیزل کی ممکنہ قیمت اضافہ
10 روپے
پیٹرول کی ممکنہ قیمت اضافہ
📅
18 جولائی
نئی قیمتوں کا نفاذ
🔥
ایران امریکا
کشیدگی سے عالمی بحران
🛡️
لیوی میں کمی
حکومتی ریلیف پر غور
🚫
ذخیرہ اندوزی
مصنوعی قلت کے خلاف ایکشن
📢

دوسری جانب حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے ذخیرہ اندوزی کرنے والے عناصر کا نوٹس لے لیا ہے۔

اس صورتحال پر کمیٹی نے اوگرا کو براہِ راست ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائے۔ حکومتی احکامات کے مطابق مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے تاکہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہتا ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے خلاف حکومتی ایکشن جہاں بروقت ہے، وہیں طویل المدتی استحکام کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور عالمی منڈی کے اثرات کو کم کرنے کی حکمت عملی انتہائی ناگزیر ہے۔

Load Next Story