حکومتی ڈیٹا اب پاکستان میں محفوظ، این ٹی سی کا ڈیٹا والٹ سے اہم معاہدہ ہوگیا
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) نے ڈیٹا والٹ پاکستان کے ساتھ حکومتِ پاکستان کے لیے خود مختار اے آئی خدمات کی فراہمی کا معاہدہ کرلیا ہے۔
معاہدے کی مدت تین سال ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے محفوظ، خود مختار اور ملک کے اندر ڈیٹا محفوظ رکھنے کی سہولت دستیاب ہوگی۔ معاہدے کے تحت ڈیٹا والٹ پاکستان اینٹرپرائز گریڈ کا جدید جی پی یو انفرا اسٹرکچر تعمیر کرے گا۔
اس اقدام کی بدولت این ٹی سی اپنے انتہائی محفوظ اور سرکاری نگرانی میں کام کرنے والے ڈیٹا سینٹرز سے مخلتف طرح کی جی پی یو خدمات اور اینٹرپرائز اے آئی کی سہولیات فراہم کرسکے گا جس سے سرکاری اداروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے میں مدد ملے گی اور حکومت کا حساس ڈیٹا پاکستان کے اندر اور ملکی دائرہ اختیار میں ہی محفوظ رہے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این ٹی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) علی فرحان نے مقامی سطح پر اے آئی انفرا اسٹرکچر کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹنگ پاور جدید ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے ڈیٹا سینٹر کو حاصل کرکے اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کے مقامی ہوسٹنگ دستیاب ہوگی۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کی سی ای او مہوش سلمان علی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت قومی طاقت، معاشی ترقی اور عوامی خدمات کے اگلے دور کا تعین کرے گی۔ این ٹی سی کے ساتھ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان ایک محفوظ، خود مختار اور اے آئی پر مبنی مستقبل کی تعمیرممکن ہوگی۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید ذیشان علی کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری پاکستان مصنوعی ذہانت کی بنیاد فراہم کرے گی۔ پاکستان مصنوعی ذہانت کا محض ایک صارف ہی نہ رہے بلکہ اس کا کی ڈویلپمنٹ بھی کرے گا۔