آئی فون کس طرح چھینے گئے؟ اوورسیز پاکستانی خاتون نے ویڈیو میں تفصیل بتادی
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)
اوورسیز پاکستانی خاتون نے آئی فون چھینے جانے کی تفصیل اور اسلام آباد پولیس کی کارکردگی اپنے ویڈیو بیان میں بتا دی۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ کورال پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث 2 گروہوں کے 5 ارکان گرفتار کرلیے، جن کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کا چھینا گیا مال، نقدی، 10 قیمتی موبائل فونز، دو موٹر سائیکلیں ، وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ، 5 پستول اور ایمونیشن برآمد کیا گیا ہے۔
ملزمان نے دوران تفتیش وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں متعدد وارداتیں کرنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔ ملزمان سے غیر ملکی خاتون سے چھینا گیا موبائل فون اور پرس بھی برآمد ہوا ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
دریں اثنا خاتون نے اپنے ویڈیو بیان میں واقعے اور پولیس کی کارروائی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور آج میں یہاں ان 2 آئی فونز کی کہانی سنانے آئی ہوں۔
خاتون نے بتایا کہ میں معمول کے مطابق پرسکون انداز میں پیدل گھر جا رہی تھی اور کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی کہ اچانک کسی نے میرا بیگ چھین لیا اور میں گر گئی اور جب میں نے دیکھا تو موٹر سائیکل پر 2 آدمی تھے، لیکن میں مزید کچھ سمجھ نہیں سکی۔ وہ چند سیکنڈ ہی میں وہاں سے فرار ہو گئے۔
اوورسیز پاکستانی خاتون نے بتایا کہ ہم کورال تھانہ آئے، جہاں ایس ایچ او اور ان کی ٹیم نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو بہت جلد حل کر لیں گے اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ آج میں ان سے اپنے آئی فونز واپس لے رہی ہوں۔
خاتون کے مطابق پاکستان میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ کا کوئی کیس ہو تو پولیس اسٹیشن نہ جائیں، کوئی آپ کی مدد نہیں کرے گا، آپ کو کچھ پیسے دینے ہوں گے یا آپ کے پاس کوئی تعلقات (سفارش) ہونے چاہییں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پولیس اسٹیشن بہت اچھا کام کررہے ہیں اور کورال تھانے کی کارروائی اس کی مثال ہے۔ لہٰذا پولیس پر بھروسا رکھیں اور اگر آپ کا کوئی کیس ہو تو بلا جھجک تھانے جائیں۔
خاتون نے کہا کہ آج میں بہت خوش ہوں اور میں یہاں ایک مظلوم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک فخر کرنے والی شہری کے طور پر کھڑی ہوں۔