فیفا ورلڈ کپ نے امریکی معیشت کو متاثر کر دیا، پیداواری صلاحیت میں 11.7 ارب ڈالر تک کمی

ورلڈ کپ کے دوران ملازمین کی غیرحاضری، تاخیر سے دفتر آنے اور جلدی جانے کے باعث عالمی سطح پر پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچز نے جہاں دنیا بھر کے فٹبال شائقین کو اپنی جانب متوجہ رکھا، وہیں امریکا میں دفاتر اور کاروباری سرگرمیاں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے باعث امریکی معیشت کی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 11.7 ارب ڈالر تک کمی واقع ہوئی۔

این ڈی ٹی وی پرافٹ نے ورک فورس مینجمنٹ کمپنی UKG کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران ملازمین کی غیرحاضری، تاخیر سے دفتر پہنچنے اور قبل از وقت روانگی کے باعث عالمی سطح پر تقریباً 17 ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی جس میں امریکا کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔

ورک پلیس پلیٹ فارم Envoy کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کی مردوں کی قومی ٹیم کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے اگلے روز دفاتر میں حاضری سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ 7 جولائی کو دفتر آنے والے ملازمین کی تعداد میں 26 فیصد جبکہ ملازمین کے اندراج میں 11.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ کمی رواں سال سپر باؤل کے اگلے روز دیکھی جانے والی حاضری میں کمی کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ تھی۔

اسی دوران کلائنٹس، انٹرویوز اور سپلائرز سمیت دفتری وزیٹرز کی آمدورفت میں بھی 32 فیصد کمی دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد کمپنیوں نے دفاتر بند کرنے کے بجائے ملاقاتیں اور کاروباری سرگرمیاں مؤخر کر دیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد دفاتر میں حاضری بتدریج معمول پر آنے لگی، اگرچہ ورلڈ کپ کوارٹر فائنل مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔

دوسری جانب فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں 80 ہزار سے زائد شائقین کی موجودگی متوقع ہے۔

فیفا نے اعلان کیا ہے کہ سلووینیا کے ریفری سلاوکو وِنچیچ فائنل میچ میں فرائض انجام دیں گے۔

2010 کی عالمی چیمپئن اسپین دوسری بار ورلڈ کپ فائنل کھیل رہی ہے جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا 1978، 1986 اور 2022 کے بعد چوتھی مرتبہ عالمی ٹائٹل جیتنے کی کوشش کرے گا۔

 

Load Next Story