پاکستانی فری لانسرز نے ایک سال میں 1.76 ارب ڈالر کما کر ایک تاریخ رقم کردی

پاکستانیوں نے حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی محنت، لگن اور کاوشوں سے ملک کے لیے قمیتی زرمبادلہ کمایا، ایسوسی ایشن

اسلام آباد:

پاکستان فری لانسرز نے کہا ہے ایک مالی سال کے دوران 1.76 ارب ڈالر کما کر تاریخ رقم کردی، پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا ہے کہ فری لانسرز نے حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی محنت لگن اور کاوشوں سے ملک کے لیے قمیتی زرمبادلہ کمایا۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک  کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال 26-2025ء کے دوران فری لانسر نے ملک کے لیے 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جو مالی سال  2024-25ء میں 984 ملین ڈالر تھا اس طرح صرف ایک سال میں فری لانسرز نے اپنی کاوشوں سے زرمبادلہ آمدن میں 78 فیصد اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ فری لانسرز کے کمائے ہوئے زرمبادلہ نے ملکی میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، فری لانسرز قیمتی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرہے ہیں۔ پاکستان کی فری لانسنگ کمیونٹی اقتصادی ترقی کے ایک اہم محرک بن گئی ہے جس کی برآمدی آمدنی کئی روایتی شعبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پیفلا کے صدر اور سی ای او ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ فری لانسنگ ملک سے بے روزگاری اور غربت کو کم کرنے کے ساتھ قیمتی زرمبادلہ آمدنی کو بڑھانے میں معاون ثابت ہورہی ہے، پاکستانی نوجوانوں کو فری لانسنگ میں اپنا مقام برقرار رکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئی ڈیجیٹل مہارتوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن نے ہزاروں مزید نوجوانوں کو مفت ڈیجیٹل اسکلز جیسا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا اینالیٹکس سمیت نئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں اس کی تربیت دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں ںے کہا کہ فری لانسرز کو انفرادی طور پر کام کرنے کے بجائے باہم مل کر اسٹارٹ اپس یا رجسٹرڈ کمپنیاں قائم کرنا ہوگی تاکہ وہ ایک جامع اور ون ونڈو خدمات فراہم کرسکیں، انڈسٹری کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز کام کررہے ہیں اور یہی نوجوان پاکستان کو دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ افرادی قوت بناتے ہیں۔

Load Next Story