جنگ میں مصروف ٹرمپ کو اچانک ٹیرف یاد آ گیا، کینیڈا پر 50 فیصد نئے محصول عائد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد شمالی امریکا کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے ٹیرف آئندہ 30 روز میں نافذ ہوں گے اور ان کا اطلاق شراب، ڈیری مصنوعات، گاڑیوں سے متعلق اشیا، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ سمیت متعدد صارفین اور صنعتی مصنوعات پر ہوگا۔
تاہم امریکا نے توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات اور مچھلی جیسی چند بڑی برآمدی اشیا کو ان ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل کے معاملے میں امریکا کے ساتھ غیر مساوی سلوک کر رہا ہے اسی لیے یہ اقدام ضروری تھا۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت آئندہ ہفتوں میں امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔
مارک کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے حالیہ اقدامات کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان موجود آزاد تجارتی معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق امریکی بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
اس سے قبل بھی امریکا کینیڈا سے درآمد ہونے والی اسٹیل، ایلومینیم، کاپر، لکڑی اور آٹو پارٹس پر مختلف شرح سے ٹیرف عائد کیے ہوئے ہے جبکہ جواباً کینیڈا بھی امریکی اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر 25 فیصد جوابی ٹیرف نافذ کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئے امریکی ٹیرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں اور شمالی امریکا میں سپلائی چین، کاروباری سرگرمیوں اور صارفین کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔