متنازع سوالات پر مبنی انٹرویو کرنے پر گرفتار صحافی ریحان طارق کے کیس میں اہم پیشرفت

ریحان طارق نے دانستہ متنازع سوالات پوچھے، انٹرویو قابل دست اندازی جرم ہے، ضمانت خارج کی جائے، این سی سی آئی اے

ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے صحافی ریحان طارق کی ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

قبل ازیں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے ریحان طارق کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اینکر پرسن ریحان طارق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر کے متن سے کوئی وقوعہ ہونا ثابت نہیں ہوا، کسی قانون کی کتاب میں تاریخی مذہبی سوالات پر مبنی انٹرویو کرنا قابل دست اندازی جرم نہیں ہے۔

میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا کہ این سی سی آئی اے کا دائرہ اختیار تب ہوگا جب غیرقانونی مواد کوئی اپ لوڈ کرے،  نہ تو مواد غیرقانونی ہے اور نہ ہی ریحان طارق نے کسی بھی طرح کا کوئی مواد اپ لوڈ کیا، این سی سی آئی اے کی 6 دن کی تفتیش میں ایک بھی ثبوت سامنے نہیں آیا جو الزامات کی تائید کرتا ہو،  این سی سی آئی نے اپنی رپورٹ میں جعلسازی سے ثبوت پیدا کر کے انہیں ریحان طارق سے منسوب کیا۔

میاں دائود ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ  کسی شہری کے اصل سوشل میڈیا اکائونٹس کو جعلی سوشل میڈیا اکائونٹس کے ساتھ منسوب کرنے کیلئے این سی سی آئی کی طرف جعلی دستاویزات تیار کرنا افسوسناک ہے، این سی سی آئی اے نے کیس بنانے کیلئے ریحان طارق کی اصل اور حقیقی تفصیلات کو جعلی سوشل میڈیا اکائونٹس سے جوڑا، ایک صحافی پر محض انٹرویو کرنے پر مقدمہ درج کرنا پوری ملک کے صحافیوں کو دہشت زدہ کرنے کے مترادف ہے۔

میاں دائود ایڈووکیٹ  کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت غیرممنوعہ دفعات میں ہر ملزم ضمانت کا حقدار ہوتا ہے۔

این سی سی آئی اے کی طرف سے صحافی ریحان طارق کی درخواست ضمانت کی بھرپور مخالفت کی گئی اور ایس ایچ او این سی سی آئی اے نجم باجوہ  نے مؤقف اپنایا کہ ریحان طارق نے دانستہ طور پر متنازع سوالات پوچھے، ریحان طارق کا انٹرویو قابل دست اندازی جرم ہے، ضمانت خارج کی جائے۔

Load Next Story