ورلڈ برین ڈے: دماغی صحت، معذوری اور علاج تک رسائی کے مسائل اجاگر کرنے کا دن

یہ دن ہر سال 22 جولائی کو منایا جاتا ہے، جس میں دماغی صحت کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے

دماغ انسانی جسم کا سب سے طاقتور اور پیچیدہ عضو ہے، اور اس کی صحت ہی بہتر زندگی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یومِ دماغ (ورلڈ برین ڈے) منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد انسانی دماغ کی اہمیت، دماغی بیماریوں، معذوری اور ان سے بچاؤ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ دن ہر سال 22 جولائی کو منایا جاتا ہے اور گزشتہ 9 برس سے دنیا بھر میں دماغی صحت کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ دماغی امراض کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیموں ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی (WFN) اور ورلڈ فیڈریشن فار نیورو ری ہیبلیٹیشن (WFNR) نے اس سال کا عالمی پیغام دماغی صحت میں موجود عدم مساوات کو ختم کرنے اور ہر شخص کے لیے اعصابی امراض کے علاج تک یکساں رسائی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

اس سال کی مہم میں خاص طور پر ان افراد کے مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے جو دماغی معذوری کا شکار ہیں اور جنہیں علاج، بحالی اور روزمرہ زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی معذوری کسی بھی عمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم بروقت تشخیص، مناسب علاج اور بحالی کی سہولیات کے ذریعے متاثرہ افراد کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد معذوری کا شکار

ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب 30 کروڑ افراد کسی نہ کسی قسم کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بچے شامل ہیں۔

پاکستان، جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، یہاں ایک اندازے کے مطابق معذور افراد کی تعداد تقریباً 70 لاکھ ہے۔ ان میں بچوں کا تناسب بھی نمایاں ہے، جہاں ملک کی مجموعی معذور آبادی کا تقریباً 43 فیصد حصہ بچے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 14 لاکھ بچے اسکول جانے کی عمر میں ہیں، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں تعلیم تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ ملک میں معذور افراد میں سے تقریباً 65 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں جبکہ 34 فیصد شہری آبادی سے ہے۔ صنفی تناسب دیکھا جائے تو معذور افراد میں مردوں کی تعداد تقریباً 58 فیصد جبکہ خواتین کی تعداد 42 فیصد ہے۔

عالمی یومِ دماغ منانے کا مقصد

عالمی یومِ دماغ کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں دماغی صحت کے حوالے سے شعور بڑھانا ہے تاکہ ذہنی، سماجی اور جسمانی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور دماغی بیماریوں کے باعث پیدا ہونے والی معذوری میں کمی لائی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق دماغی بیماریوں کی بروقت روک تھام، درست تشخیص اور علاج تک آسان رسائی ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ دماغی معذوری کے شکار افراد کو علاج، بحالی، معاون ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

دماغی امراض، کم توجہ پانے والا عالمی مسئلہ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی امراض دنیا کی مہنگی ترین بیماریوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہ معذوری کے ساتھ ساتھ اموات کی بڑی وجوہات میں بھی شامل ہیں، تاہم دیگر بیماریوں کے مقابلے میں دماغی صحت کے شعبے میں تحقیق، علاج اور آگاہی کے لیے وسائل اب بھی محدود ہیں۔

ماہرین کے مطابق دماغی بیماریوں سے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ، عوامی شعور میں اضافہ اور علاج و تحقیق کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ دنیا بھر میں دماغی صحت کے مسائل سے متاثرہ افراد کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story