توانائی کا بحران، کیوبا میں سولر سے چلنے والی ٹرائی سائیکل مقبول

ان گاڑیوں کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے  4  ہزار امریکی ڈالر کے درمیان ہے

(تصویر: اے پی)

کیوبا میں طویل عرصے سے جاری ایندھن کے بحران کے باعث سڑکوں پر نظر آنے والی روایتی کلاسک گاڑیوں کی جگہ اب زیادہ تر چین میں تیار کردہ الیکٹرک تین پہیوں والی گاڑیاں (ٹرائی سائیکلز) لے رہی ہیں، جو لاکھوں شہریوں کے لیے آمدورفت کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔

متعدد کیوبن شہریوں نے ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر شمسی پینل بھی نصب کر رکھے ہیں، جس کی بدولت انہیں چارج کرنے کے لیے ملک کے پہلے سے دباؤ کا شکار بجلی کے نظام پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

ان گاڑیوں کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ نہ صرف سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی ہیں بلکہ یہ ان بس روٹس پر بھی چل رہی ہیں جہاں پہلے سرکاری بسیں خدمات فراہم کرتی تھیں۔

زیادہ قیمت کے باعث یہ گاڑیاں ہر شہری کی پہنچ میں نہیں۔ تاہم، بہت سے لوگوں نے اپنی پرانی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کرکے الیکٹرک ٹرائی سائیکلز خریدیں، جبکہ بعض کو بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں نے یہ گاڑیاں فراہم کیں۔ کئی چھوٹے کاروباری افراد نے بھی اپنی آمدنی سے ان میں سرمایہ کاری کی ہے۔

دوسری جانب رواں سال جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

کیوبا اپنی ضرورت کا صرف تقریباً 40 فی صد ایندھن خود پیدا کرتا ہے اور اس اعلان کے بعد مارچ کے آخر تک ملک میں صرف ایک آئل ٹینکر پہنچا جبکہ اس سے قبل ہر ماہ اوسطاً آٹھ ٹینکر آتے تھے، جس سے ایندھن کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔

Load Next Story