وزیراعظم کا ایران-امریکا کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین پر تحمل پر زور

فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، وزیراعظم

فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقاتی اور اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے اس ماہ کے آغاز میں تہران کے اپنے دورے کا ذکر کیا جہاں انہوں نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی تھی اور انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام پہنچایا۔

وزیراعظم نے جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک دیانت دار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اسکندر مومنی نے ایرانی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی کی انتھک کوششوں کو سراہا جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔

انہوں نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے وزیراعظم کے تہران کے دورے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

Load Next Story