آبنائے ہرمز میں حملے کے بعد تھائی ملاحوں کا بڑا قدم، جہاز مالکان کے خلاف مقدمہ دائر کردیا
بنکاک: آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے تھائی مال بردار جہاز ’مایوری ناری‘ کے تین زندہ بچ جانے والے ملاحوں نے جہاز کی مالک کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
ملاحوں کا الزام ہے کہ کمپنی نے ایران کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی انتباہات کو نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں جہاز حملے کی زد میں آ گیا۔
الجزیرہ کے مطابق مقدمہ دائر کرنے والے ملاحوں کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل ایران کی جانب سے جہاز رانی سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے تھے، لیکن جہاز کے مالکان نے ان پر مناسب توجہ نہیں دی اور سفر جاری رکھا۔
زندہ بچ جانے والے ملاح پانیتی تمکائیو نے حملے کی ہولناک یادیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی زور دار دھماکے کی آواز آئی تو انہیں فوراً احساس ہو گیا کہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا، ’جیسے ہی میں نے دھماکے کی آواز سنی، مجھے لگا کہ اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ میں بری طرح خوفزدہ ہو گیا۔ عام دھماکہ اتنا طاقتور نہیں ہو سکتا تھا۔‘
پانیتی تمکائیو کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ ذہنی طور پر دوبارہ سمندر میں کام کرنے کے قابل نہیں رہے اور انہیں ملازمت چھوڑنا پڑی۔
ان کے مطابق کمپنی نے انہیں صرف تقریباً 5 ہزار امریکی ڈالر کی بقایا تنخواہ ادا کی، جبکہ حملے سے ہونے والے ذہنی اور پیشہ ورانہ نقصان کا کوئی مناسب ازالہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تینوں ملاح عدالت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جہاز کی مالک کمپنی کو حفاظتی اقدامات میں مبینہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مناسب معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت، آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔