فلم ’بلّہ‘ کی نمائش پر سینیٹ کمیٹی کے اعتراضات، نام اور ڈائلاگز میں تبدیلی کی سفارش

سینیٹر سرمد علی نے تجویز دی کہ تبدیلیوں تک فلم کی نمائش مؤخر رکھی جائے

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے فلم ’بلّہ‘ کی نمائش عارضی طور پر روکنے کی سفارش کرتے ہوئے اس کا نام تبدیل کرنے اور بعض مکالموں میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر سرمد علی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز (سی بی ایف سی) نے فلم سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات پر بریفنگ دی۔ اس دوران فلم کی منظوری کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سی بی ایف سی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم کو پنجاب اور سندھ کے سینسر بورڈز نے اسی نام کے ساتھ بغیر کسی کٹ کے منظوری دی ہے، جبکہ وفاقی بورڈ کا دائرۂ اختیار صرف اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور کنٹونمنٹ کے علاقوں تک محدود ہے۔

حکام نے بتایا کہ فلم کی منظوری یا مسترد کرنے کا فیصلہ بورڈ اجتماعی طور پر کرتا ہے اور چیئرمین صرف ووٹ برابر ہونے کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کمیٹی فلم پر پابندی یا اس کا نام تبدیل کرنے کی سفارش کرتی ہے تو یہ معاملہ اپیل کے اگلے فورم یعنی وفاقی حکومت کو بھیجا جا سکتا ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ’’فلم کے دفاع میں مصنف ناصر ادیب کی شہرت کو بنیاد بنانا کافی نہیں۔ وہ فلموں کے مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں تاہم اس سے تاریخ، پاکستانی ثقافت یا قومی شخصیات پر ان کی مہارت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘

پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ ’’فلم ’مولا جٹ‘ نے گنڈاسا کو ثقافتی علامت کے طور پر مقبول بنایا، حالانکہ وہ خود اس فلم سے پہلے اس ہتھیار سے واقف بھی نہیں تھے۔‘‘

اجلاس کے اختتام پر سینیٹر سرمد علی نے تجویز دی کہ فلم ’بلّہ‘ کا نام تبدیل کیا جائے، بعض مکالموں میں ترمیم کی جائے اور ان تبدیلیوں تک فلم کی نمائش مؤخر رکھی جائے۔

واضح رہے کہ اس فلم کے مصنف ناصر ادیب ہیں، جبکہ اس میں شان شاہد اور سلیم شاہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ 21 مارچ 2026 کو عیدالفطر کے موقع پر ریلیز ہو چکی تھی، مگر حالیہ دنوں میں سینما گھروں میں اس کی نمائش پر پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔
 

Load Next Story