دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک حملے جاری رہیں گے، ایرانی سیکیورٹی چیف
فوٹو: اے ایف پی
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکا اہداف کے خلاف جاری کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب اور لیمرد میں بچوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد ذوالقدر نے بیان میں کہا کہ خطے میں دھواں کے بادل کا مطلب ہے کہ امریکی فوجی، سیکیورٹی یا مالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج کی جانب سے مسلسل اور اہداف پر حملے بیدار ایرانی قوم کے غصے کا اظہار ہے جو عالمی بالادستی کے نظام کی پشت پر پڑ رہے ہیں اور اس وقت تک جاری رہے رہیں گے جب تک دمشن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب و لیمرد کے بچوں پر ہونے والے بچوں کے خون کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔
یاد رہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو حملہ کیا تھا اور اس کشیدگی کو اب پانچ مہینے ہو رہے ہیں تاہم 40 روز بعد 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو حتمی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور قطر میں دونوں فریقین کے درمیان تیکنیکی مذاکرات بھی ہوئے لیکن اسلام آباد میں شیڈول تیسرے دور سے قبل ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے حملہ دوبارہ شروع کردیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے مسلسل 13 روز سے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی ہیں اور ان کارروائیوں میں شہری تنصیبات بشمول مواصلات ڈھانچہ، پل اور پانی کی پلانٹس تباہ کیے گئے جبکہ 55 افراد شہید ہوئے اور 645 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے جوابی حملوں میں ڈرون اور میزائل کا استعمال کرتے ہوئے خطے میں جہاں امریکی فوجی بیسز موجود ہیں، ان کو نشانہ بنایا۔