پاکستان ریلویز کا ریکارڈ منافع کے باوجود ٹرینیں تاخیر کا شکار
پاکستان ریلویز تاریخ کا ریکارڈ منافع کمانے کے باوجود مسافروں اور امپورٹر ایکسپورٹرز کے اربوں روپے مالیت کے سامان کو بروقت منزل مقصود پر پہنچا نے میں ناکام ہوگیا۔
پاکستان ریلویز اپنی تمام تر حفاظتی اقدامات اور تباہ حال ریلوے انفراسٹرکچر کے ساتھ اپنے آپریشن کو چلا رہا ہے مگر فنڈز کی غیر متوازن تقسیم نے بچے کچے سسٹم کو آخری سانسیں لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایک طرف وفاقی وزیر حنیف عباسی پاکستان ریلویز کا ریکارڈ 115 ارب روپے ریونیو کمانے کا زور شور سے اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ بوسیدہ پٹریوں پر روزانہ خطرناک حادثات نے مسافروں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔
ریکارڈ آمدن کے دعوے تو کر دیے مگر ہنگامی بنیادوں پر انفراسٹرکچر کی تعمیر ونوع پر کام شروع نہیں کیا گیا۔
کوئی شک نہیں کہ ریلوے اسٹیشن کی آپ گریڈیشن اور مسافروں ویٹنگ لاوئنج کو اپ گریڈ کیا گیا ہے مگر اربوں روپے کا امپورٹرز ایکسپورٹرز کا سامان ہو یا ہزاروں لاکھوں روپے ٹکٹ کی مد میں خرچ کرنے والے مسافر ہوں، ان کو بروقت منزل مقصود پر پہنچانے میں ناکام ہوگیا ہے۔
ٹرینیں تین سے چار اور بعض اوقات چھ چھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں روزانہ اوسط مسافروں کے ہر ماہ 100 سے لیکر 150 گھنٹے ضائع ہو رہے ہیں۔
ریل گاڑی اگر وقت پر روانہ بھی ہو جائے تو حادثات کا شکار ہو جاتیں ہیں کبھی پٹری سے اترنے تو کبھی پاور وین میں آگ لگنے سے بروقت روانگی خاک میں مل جاتی ہے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ریلوے انفراسٹرکچر کو نیا بنانے سمیت برانچ لائنوں پر بھی اربوں روپے کی لاگت سے کام شروع ہوگیا ہے جبکہ نجی کمپنیوں کو ایک درجن سے زائد ریل گاڑیوں کو بلایا جا رہا ہے۔
مسافروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں آئیندہ چند برسوں میں پاکستان ریلویز ایک جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ادارہ بن جائے گا ریکارڈ آمدنی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلوے میں بہتری آرہی ہے۔