محدود اوقات میں کھانا بڑھاپے میں کس تکلیف سے بچا سکتا ہے؟
ایک نئی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کھانے اور اسنیکس کو روزانہ صرف نو گھنٹے کے اندر محدود رکھا جائے اور سونے سے چار گھنٹے پہلے کھانا چھوڑ دیا جائے، تو بڑھاپے میں دماغی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق میں زائد وزن یا موٹاپے کا شکار معمر خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق وہ خواتین جنہوں نے مقررہ وقت کے اندر کھانا کھایا، ان کی ذہنی کارکردگی ان خواتین کے مقابلے میں بہتر دیکھی گئی جنہوں نے زیادہ طویل دورانیے میں کھانا کھایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ابتدائی (پائلٹ) تحقیق ہے اس لیے نتائج کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ تاہم، اگر آئندہ تحقیق بھی یہی نتائج دکھاتی ہے تو کھانے کے اوقات محدود رکھنا دماغی صحت کے تحفظ کا ایک مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا کی رٹجرز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی غذائی ماہر پروفیسر سو شیپسز کے مطابق وزن میں کمی خود بھی عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کمزوری کی رفتار سست کر سکتی ہے لیکن روزانہ صرف آٹھ سے نو گھنٹے کے دوران کھانا کھانے اور سونے سے چار گھنٹے پہلے کھانا بند کرنے سے اضافی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر ڈیمنشیا اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عمر اور جینیاتی عوامل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ تاہم، صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر تقریباً نصف کیسز کو روکا یا مؤخر کیا جا سکتا ہے جبکہ درمیانی عمر میں موٹاپا لاحق ہونے سے بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 30 فی صد بڑھ جاتا ہے۔