کھانے کے درمیان پانی پیناکس مشکل کا سبب بن سکتا ہے؟
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کھانے کے دوران بار بار پانی پینا وزن کم کرنے میں مددگار ہونے کے بجائے الٹا زیادہ کھانا کھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھانے کے دوران پانی کے گھونٹ لینے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے، جس کے باعث کم غذا کھائی جاتی ہے۔ تاہم، نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔
کورنیل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ہر اضافی 100 ملی لیٹر پانی پینے پر شرکا نے اوسطاً 40 گرام زیادہ غذا کھائی، جو تقریباً 50 اضافی کیلوریز کے برابر ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد کھانے اور پانی پینے کے درمیان زیادہ بار ردوبدل کرتے رہے انہوں نے بھی مجموعی طور پر زیادہ کھانا کھایا۔
اس سے قبل کی متعدد تحقیقات میں بھی دیکھا گیا تھا کہ موٹاپے کا شکار افراد کھانے کے دوران زیادہ دیر تک پانی پیتے ہیں، تیز رفتاری سے پانی پیتے ہیں اور پورے کھانے کے دوران وقفے وقفے سے پانی پینے کا رجحان زیادہ رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کھانے کے دوران پانی پینے اور خوراک کی مقدار کے درمیان تعلق پہلے سے تصور کیے جانے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔