زیادہ اسکرین ٹائم آپ کی آنکھوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں

اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنا آنکھوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ڈیجیٹل اسکرینز جیسے موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیب اور لیپ ٹاپ آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ دفتر، اسکول، گھر یا خریداری، تقریباً ہر جگہ اسکرین کا استعمال معمول بن گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنا آنکھوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

زیادہ اسکرین ٹائم سے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق مسلسل اسکرین دیکھنے سے درج ذیل مسائل سامنے آسکتے ہیں:

  • آنکھوں کا خشک ہونا یا ان میں پانی آنا
  • دھندلا دکھائی دینا
  • سر درد
  • آنکھوں کی تھکن
  • بچوں میں نظر کمزور (مایوپیا) ہونے کا خطرہ
  • بعض افراد میں چکر آنے یا عدم توازن محسوس ہونے کی شکایت

البتہ امریکن اکیڈمی آف اوفتھالمولوجی کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی سائنسی شہادت موجود نہیں کہ ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی بلو لائٹ آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچا رہی ہے۔

مسئلہ آنکھوں میں نہیں، ان کے پٹھوں پر دباؤ ہے

امریکن آپٹومیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور ماہر چشم ڈاکٹر اسٹیون ریڈ کے مطابق اسکرین کو مسلسل قریب سے دیکھنے کی وجہ سے آنکھوں کی فوکس کرنے والی عضلات  مسلسل تناؤ کا شکار رہتی ہیں۔

انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کوئی ہلکا وزن اٹھا کر کئی گھنٹے تک سر کے اوپر تھامے رکھیں۔ وزن زیادہ نہیں ہوتا، مگر کچھ دیر بعد جسم تھک جاتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر ریڈ کے مطابق یہی مسلسل دباؤ آنکھوں میں درد، سر درد اور دھندلے پن کی وجہ بنتا ہے، اس لیے ایسے افراد کو آنکھوں کا معائنہ کرانا چاہیے اور اسکرین سے باقاعدگی سے وقفہ لینا چاہیے۔

چند احتیاطی تدابیر

20-20-20 اصول:

ماہرین آنکھوں کو آرام دینے کے لیے 20-20-20  رول اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق:

  • ہر 20 منٹ بعد اسکرین سے نظریں ہٹا لیں۔
  • تقریباً 20  فٹ دور موجود کسی چیز کو دیکھیں۔
  • کم از کم 20  سیکنڈ تک اسی پر نظر رکھیں۔

امریکن اکیڈمی آف اوفتھالمولوجی کے ترجمان اور ماہر چشم ڈاکٹر راج ماتوری کہتے ہیں کہ ’’خوش قسمتی سے آنکھوں کی تھکن عارضی ہوتی ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسکرین سے وقفہ لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر مصنوعی آنسو استعمال کیے جائیں۔‘‘

پلکیں زیادہ جھپکائیں:

ماہرین کے مطابق عام حالات میں انسان ایک منٹ میں تقریباً 18 سے 22 مرتبہ پلک جھپکتا ہے، جس سے آنکھیں قدرتی طور پر نم رہتی ہیں۔

لیکن اسکرین استعمال کرتے ہوئے یہ تعداد کم ہو کر صرف 3 سے 7 مرتبہ فی منٹ رہ جاتی ہے، جس کے باعث آنکھیں خشک ہونے لگتی ہیں۔ ایسے افراد ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنی ورک اسپیس میں یہ تبدیلیاں کریں:

آنکھوں کی تھکن کم کرنے کے لیے ماہرین چند آسان تبدیلیوں کا بھی مشورہ دیتے ہیں:

  • ممکن ہو تو بڑی اسکرین استعمال کریں۔
  • فون یا کمپیوٹر پر فونٹ سائز بڑا رکھیں۔
  • اسکرین سے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر بیٹھیں۔
  • اسکرین کو آنکھوں کی سطح سے تھوڑا نیچے رکھیں تاکہ آنکھوں پر دباؤ کم پڑے۔

سونے سے پہلے اسکرین نہ دیکھیں:

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی بلو لائٹ دماغ کو زیادہ چوکس رکھ سکتی ہے، جس سے نیند آنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔

اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ سونے سے ایک سے دو گھنٹے پہلے دیگر اسکرینوں کا استعمال بند کر دیں، اسکرین کی برائٹنس کم کر دیں اور رات کو ویڈیوز دیکھنے کے بجائے آڈیو بکس یا پوڈکاسٹس سننے کی عادت اپنائیں۔

بچوں کے لیے ماہرین کا خصوصی مشورہ:

چلڈرنز ہاسپٹل آف فلاڈیلفیا سے وابستہ ماہر چشم ڈاکٹر عائشہ ملک کے مطابق بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم اور مسلسل قریب کی چیزوں پر نظر رکھنے سے نظر کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے لیے 20 رول زیادہ مؤثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’آج کل بچے اسکول اور گھر دونوں جگہ اسکرین استعمال کرتے ہیں، اس لیے مجموعی اسکرین ٹائم کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں کہ ایک وقت میں مسلسل 20 منٹ سے زیادہ اسکرین استعمال نہ کی جائے۔‘‘

Load Next Story