پاکستانی شوبز کے وہ ستارے جو ’نیپو کڈز‘ ہونے کے باوجود اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ’نیپو کڈز‘ کا موضوع اکثر زیرِ بحث رہتا ہے، تاہم کچھ ایسے فنکار اور پروڈیوسرز بھی ہیں جو معروف شوبز خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی خاندانی شناخت کے بجائے اپنے کام اور صلاحیت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض شخصیات کے خاندانی پس منظر سے عام ناظرین طویل عرصے تک واقف ہی نہیں تھے۔ ان میں سے چند درج زیل ہیں:
عدیل ہاشمی
عدیل ہاشمی اپنی منفرد اداکاری، مزاحیہ انداز اور اسٹیج پرفارمنس کے باعث ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ وہ سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں طرح کے کردار نبھا چکے ہیں۔
تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عدیل ہاشمی کا تعلق ایک معروف ادبی اور میڈیا خاندان سے ہے۔ ان کی والدہ منیزہ ہاشمی معروف میڈیا پروڈیوسر ہیں جبکہ ان کے نانا پاکستان کے لیجنڈری شاعر فیض احمد فیض تھے۔ عدیل ہر سال فیض میلے کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔
علی طاہر گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی ڈراموں میں مختلف نوعیت کے کرداروں سے ناظرین کو متاثر کر رہے ہیں۔ ’شیر‘ اور ’زرد پتوں کا بن‘ جیسے ڈراموں میں ان کی اداکاری نے ان کی ورسٹائل صلاحیت کو مزید نمایاں کیا۔
علی طاہر کا تعلق بھی ایک معروف فنکارانہ و ادبی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا امتیاز علی تاج نامور مصنف تھے، جبکہ والد نعیم طاہر اداکار اور مصنف اور والدہ یاسمین طاہر معروف براڈکاسٹر تھیں۔
مومنہ درید پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی نمایاں پروڈیوسرز میں شمار ہوتی ہیں اور متعدد مقبول ڈراموں کے پیچھے ان کا نام موجود ہے۔
ان کا تعلق بھی میڈیا کی ایک مضبوط خاندانی وراثت سے ہے۔ ان کی ساس سلطانہ صدیقی پاکستان کی معروف میڈیا شخصیات میں شامل ہیں۔ تاہم مومنہ درید نے بطور پروڈیوسر اپنی الگ شناخت قائم کی اور معیاری اسکرپٹس اور بڑے ڈرامہ پراجیکٹس کے حوالے سے اپنا مقام بنایا۔
حنا رضوی طویل عرصے سے پاکستانی ڈراموں کا حصہ ہیں اور مزاحیہ سے سنجیدہ کرداروں تک اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ ڈرامہ ’فیری ٹیل‘ میں دادی کا کردار بھی ان کے نمایاں کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
حنا رضوی کا تعلق بھی شوبز خاندان سے ہے۔ ان کے والدین فلم سازی سے وابستہ تھے جبکہ ان کی بہنیں سنگیتا اور کویتا بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف نام ہیں۔
ثنا شاہنواز پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف پروڈیوسر ہیں اور ’من مائل‘، ’الف‘، ’صنفِ آہن‘ اور ’جانِ جہاں‘ جیسے پراجیکٹس سے وابستہ رہی ہیں۔
وہ اداکارہ ثمینہ ہمایوں سعید کی بہن ہیں اور انہیں اپنی بہن اور بہنوئی ہمایوں سعید کی جانب سے مکمل تعاون حاصل رہا، تاہم ثنا نے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے بطور پروڈیوسر اپنی الگ شناخت بنانے پر توجہ دی۔
اشنا شاہ
اشنا شاہ نے پاکستانی ڈراموں میں مختلف اور چیلنجنگ کرداروں کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ ’بشر مومن‘ اور ’الف اللہ اور انسان‘ جیسے ڈراموں میں ان کی اداکاری نے انہیں نمایاں کیا۔
تاہم اشنا کا تعلق بھی ایک معروف شوبز خاندان سے ہے۔ ان کی والدہ عصمت طاہرہ پی ٹی وی کی معروف اداکارہ تھیں، جبکہ ان کی بہن ارسا غزل بھی اداکاری کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کے بھائی شاہ شربیّل تھیٹر کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
فہد مصطفیٰ کا شمار پاکستان کے بڑے اداکاروں، میزبانوں اور پروڈیوسرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ٹی وی، فلم اور میزبانی سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
فہد مصطفیٰ کے والد صلاح الدین تنیو سندھی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار ہیں۔ اگرچہ فہد کو شوبز کا خاندانی پس منظر حاصل تھا، لیکن انہوں نے مین اسٹریم انٹرٹینمنٹ میں اپنی الگ شناخت قائم کی اور آج خود ایک بڑا نام ہیں۔
شہریار منور نے ابتدا میں کیمرے کے پیچھے کام کرنے کا ارادہ کیا، تاہم بعد میں اداکاری کے میدان میں آئے اور ساتھ ہی پروڈکشن میں بھی قدم رکھا۔
وہ ’ہو من جہاں‘ اور ’پرے ہٹ لو‘ جیسی فلموں سے بطور پروڈیوسر وابستہ رہے ہیں۔ شہریار منور کا تعلق بھی ایک بااثر میڈیا خاندان سے ہے اور ان کی پھوپھی سلطانہ صدیقی ہیں، تاہم انہوں نے اپنی صلاحیت اور محنت سے انڈسٹری میں الگ مقام بنایا۔
ندا یاسر پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف میزبان ہونے کے ساتھ اداکارہ اور پروڈیوسر بھی ہیں۔ اگرچہ انہیں عام طور پر ان کے شوہر یاسر نواز کے خاندان کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے، لیکن ندا خود بھی ایک معروف شوبز خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
ان کے والد کاظم پاشا پی ٹی وی کے معروف پروڈیوسر اور ہدایت کار تھے جبکہ ان کی والدہ فہمیدہ نسرین بھی پی ٹی وی سے بطور مصنفہ، ہدایت کارہ اور پروگرام پروڈیوسر وابستہ رہیں۔
بلال مقصود معروف موسیقار، گلوکار اور ’اسٹرنگز‘ بینڈ کے رکن کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔
وہ معروف مصنف اور میزبان انور مقصود کے صاحبزادے ہیں، تاہم بلال کی موسیقی اور ’اسٹرنگز‘ کے ساتھ کامیابی نے انہیں اپنے والد کی شہرت سے الگ ایک مضبوط شناخت دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مداح طویل عرصے تک اس خاندانی تعلق سے بھی واقف نہیں تھے۔