فرانسیسی سفارتکاروں کی حراست پر ایران اور فرانس آمنے سامنے، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے ایران اور فرانس کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے

تہران: ایران نے دو فرانسیسی سفارتکاروں کی حراست سے متعلق تنازع پر فرانسیسی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کے دوران فرانسیسی حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے اور ایسے اقدامات بند کرے جنہیں ایران اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ فرانسیسی سفارتکار سول سوسائٹی سے روابط کے نام پر ایسی سرگرمیوں میں مصروف تھے جنہیں ایران اپنے داخلی معاملات میں مداخلت تصور کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں فرانسیسی سفارتکاروں کو 19 جولائی کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔ انہیں کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ واپس فرانسیسی سفارت خانے پہنچ گئے۔

ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے سفارتکاروں میں سے ایک نے الزام لگایا ہے کہ دورانِ حراست اس کے ساتھ جسمانی بدسلوکی بھی کی گئی۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے اس واقعے کو انتہائی سنگین دھمکی آمیز اقدام قرار دیتے ہوئے ایران سے وضاحت طلب کی ہے۔

فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ سفارتی اہلکار بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ تمام غیر ملکی سفارتکاروں کو میزبان ملک کے قوانین اور سفارتی اصولوں کی مکمل پابندی کرنا چاہیے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی مختلف علاقائی تنازعات، جوہری پروگرام اور پابندیوں کے باعث کشیدگی کا شکار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے ایران اور فرانس کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story