فلم ’کالا ہرن‘ تنازع، سلمان خان کے حق میں بڑا عدالتی فیصلہ آگیا

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے اہم قانونی کامیابی مل گئی

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے اہم قانونی کامیابی مل گئی۔ عدالت نے فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کے پروڈیوسر امیت جانی کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر، پوسٹرز اور اس سے متعلق آن لائن موجود تمام انٹرویوز اور تشہیری مواد فوری طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیں۔

یہ حکم جسٹس جیوتی سنگھ نے سلمان خان کی درخواست پر جاری کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کا ازالہ آسان نہیں ہوتا، اس لیے متنازع مواد کی تشہیر مزید جاری نہیں رہنی چاہیے۔

عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ فلم کے تشہیری مواد میں ایسے واضح اشارے موجود ہیں جو سلمان خان کو 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی سے وابستہ تنازع کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس نوعیت کا تاثر نہ صرف اداکار کی شہرت بلکہ ان کی سلامتی کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

سلمان خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ فلم میں اداکار کا نام براہِ راست استعمال نہیں کیا گیا، تاہم مرکزی کردار کو سلمان خان سے مشابہ دکھایا گیا ہے۔ وکلا کے مطابق اس کردار کے ہاتھ میں سلمان خان جیسا مخصوص نیلا بریسلیٹ پہنایا گیا تاکہ ناظرین اسے حقیقی اداکار سے منسلک کریں۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیزر میں اس کردار کو بندوق کے ساتھ دکھایا گیا، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے، حالانکہ سلمان خان اسلحہ ایکٹ سے متعلق مقدمے میں پہلے ہی عدالت سے بری ہو چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکلا نے مزید مؤقف اپنایا کہ فلم کے پروڈیوسر نے سلمان خان کے ماضی کے مقدمات اور لارنس بشنوئی کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کو فلم کی تشہیر اور تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، جو ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد پروڈیوسر امیت جانی کو ہدایت کی گئی ہے کہ سلمان خان سے منسلک تمام تشہیری مواد، ویڈیوز اور میڈیا انٹرویوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن ذرائع سے بھی ہٹا دیے جائیں۔

Load Next Story