بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کیس، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئینی عدالت میں جواب جمع کرادیا

آئینی عدالت نے اس درخواست کی سماعت 29 جولائی کو مقرر کر رکھی ہے

وفاقی آئینی عدالت میں بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جواب جمع کروا دیا، رہائی فورس کے وجود کی تردید کرتے ہوئے رہائی امن تحریک کو آئینی و قانونی قرار دینے کی استدعا کردی۔

وفاقی آئینی عدالت میں بانی پی ٹی آئی رہائی فورس سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آٹھ صفحات پر مشتمل جواب ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے جمع کرا دیا۔

جواب میں وزیراعلیٰ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کبھی قائم نہیں ہوئی جبکہ اصل اقدام بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک ہے، جو پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ نوعیت کی ہے اور اس میں کسی مسلح ڈھانچے کا کوئی وجود نہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ آئینی درخواست سیاسی مقاصد اور غلط بیانی پر مبنی، قبل از وقت، فرضی اور ناقابلِ سماعت ہے، جبکہ درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ رہائی امن تحریک کو آئین کے آرٹیکلز 16، 17 اور 19 کا تحفظ حاصل ہے، آرٹیکل 256 اور پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا، امنِ عامہ کو لاحق خطرات سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور اس تحریک کا ماضی کی مسلح تنظیموں سے موازنہ گمراہ کن ہے۔

وزیراعلیٰ نے عدالت سے آئینی درخواست ابتدائی مرحلے پر خارج کرنے اور بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئینی و قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ آئینی عدالت نے اس درخواست کی سماعت 29 جولائی کو مقرر کر رکھی ہے۔

Load Next Story