امریکا کا بڑا فیصلہ، یورپ میں فوجی موجودگی پر نظرثانی، نیٹو میں ہلچل

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر بارہا تنقید کر چکے ہیں

واشنگٹن: امریکا نے یورپ میں اپنی فوجی موجودگی اور نیٹو کے تحت دفاعی ذمہ داریوں کا باقاعدہ جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس جائزے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یورپی ممالک اپنی روایتی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

امریکی محکمہ دفاع کے نائب سیکریٹری ایلبرج کولبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک حقیقی اور جامع جائزہ ہوگا، جس کے ذریعے نیٹو کو اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا جہاں یورپ اپنی روایتی دفاعی ذمہ داریوں کا بنیادی بوجھ خود اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ اس جائزے کے نتیجے میں نیٹو ایک زیادہ مضبوط، منصفانہ اور پائیدار اتحاد کی شکل اختیار کرے گا، جہاں تمام اتحادی ممالک دفاعی ذمہ داریوں میں متوازن کردار ادا کریں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر بارہا تنقید کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بعض یورپی ممالک کی جانب سے امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک دفاعی اخراجات کے طے شدہ اہداف پورے نہیں کرتے تو امریکا نیٹو پر اپنے دفاعی اخراجات اور تعاون میں کمی کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اسی پالیسی کے تحت پینٹاگون پہلے ہی اپنے اتحادیوں کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ دنیا بھر میں نیٹو آپریشنز کے لیے دستیاب امریکی فوجی وسائل اور عسکری اثاثوں کی تعداد میں کمی کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جائزے کے نتائج نہ صرف یورپ میں امریکی فوجی موجودگی بلکہ نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور امریکا کے عالمی دفاعی کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Load Next Story