افغانوں کو پناہ یا روزگار دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی، ایڈیشنل آئی جی سندھ

دہشتگردی کے خدشات موجود ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سدباب کر رہے ہیں، آزاد خان

کراچی:

ایڈیشنل آئی جی سندھ آزاد خان نے کہا ہے کہ افغانوں کو پناہ دینے اور روزگار فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی لہٰذا کوئی بھی تاجر افغانیوں کو روزگار اور تحفظ فراہم کرنے سے گریز کرے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر و صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ دہشتگردی کے خدشات موجود ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سدباب کر رہے ہیں۔ سندھ پولیس اور ایجنسیاں اچھا کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے ملک اور شہر کے بارے میں منفی بات کرتے ہیں تو باہر والا بھی اسے برا سمجھتا ہے، سندھ بھر میں رواں سال دہشت گردی کے 8 واقعات ہوئے جو گزشتہ سال 37 تھے۔ گزشتہ چھ ماہ میں مجموعی طور پر اسٹریٹ کرائم میں 15فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گاڑی چھننے اور دوران ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں سالانہ 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈاکٹر آکاش کا کیس بہت جلدی حل کر لیا گیا، شہر اور ملک سے متعلق منفی باتیں زیادہ اجاگر ہونے سے عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ رواں سال 9 بھتہ خور مقابلے میں ہلاک اور 61 گرفتار کیے گئے۔ بھتہ خوروں کے بیرون ملک مقیم 4 سرغنوں کے خلاف ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔

آزاد خان نے کہا کہ منشیات کے خلاف اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے۔

ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور جلد عمل درآمد ہوگا، قبضوں کے خلاف حکومت نے ٹاسک فورس بنا دی ہے۔ فرانزک لیب بھی بنائی جارہی ہے جبکہ سبزی منڈی کا الگ تھانہ جلد بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نفری بڑھانے کے بجائے ٹیکنالوجی کے حصول پر زیادہ توجہ ہے۔ تھانہ کلچر تبدیل کرنا ایک چیلنج ہے جس کے لیے ایس او پیز بنائی جا رہی ہیں جن میں انسپیکشن کے اقدامات بھی شامل ہوں گے جبکہشکایات کے اندراج کے میکنزم کو بھی آٹومیٹڈ کیا جائے گا۔

قبل ازیں کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال آج سے چار سال قبل کی نسبت بہت بہتر ہے تاہم حالات مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے، بالخصوص اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا کوئی ایسی پالیسی مرتب کی جائے کہ اسٹریٹ کرائم کا خاتمہ ہو جائے۔ سیف سٹی اگر پورے کراچی پر لاگو ہو جائے اور غیر قانونی افغانیوں کو نکالا جائے تو متعدد مسائل حل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسمارٹ ٹریفک سگنلز کی تعداد بڑھا دی جائے تو ٹریفک کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی۔ ٹرالر ٹرک کی فٹنس انتہائی ناگزیر ہے، جس کے فقدان سے حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ انکروچمنٹ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے ساتھ جاسوسی بھی کی جاتی ہے۔

کراچی چیمبر کے صدر کا کہنا تھا کہ لینڈ گریبنگ جب ہو جاتی ہے تو قبضہ چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم بروقت کاروائی سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ کراچی پورٹ میں پارکنگ نہ ہونے کے سبب کافی مسائل درپیش ہیں۔

Load Next Story