نو تعمیر ایرانی ایٹمی سائٹ قدرتی طور پر بم پروف ہے، برطانوی ماہر ارضیات
امریکا ایران میں کوہ کلنگ گزلا کے نیچے واقع نوتعمیر ایٹمی مقام تباہ کرنے کے درپے ہے کہ اسے یقین ہے ایرانیوں نے وہاں یورینیم افزودہ کرتی جدید ترین سینٹری فیوج مشینیں اور شاید ایٹم بم بنانے کے قابل یورینیم چھپا رکھا ہے۔
گویا یہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں اہم ترین مقام بن چکا۔ مگر اب امریکی رسالے، سائنٹفک امریکن کے مضمون میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ارضیات ، رچرڈ والکر نے انکشاف کیا ہے:’’یہ ایرانی سائٹ دنیا کے تمام ایٹمی مراکز میں مضبوط ترین ہے۔‘‘
وجہ یہ کہ اس پہاڑ کی چٹانیں ’’اینڈیسائٹ‘‘(Andesite)آتش فشانی پتھر سے بنی ہیں جس کا نمبر پتھروں کی سختی کے پیمانے، موس(Mohs) پر 6 تا 7،گویا وہ اسٹیل سے بھی زیادہ مزاحمت رکھتا ہے۔
معنی یہ زیرزمین سرنگیں تباہ کرتا 30 ہزار پونڈ وزنی دنیا کا سب سے طاقتور امریکی بم، GBU-57 بھی کوہ کلنگ پر گر کر صرف پچاس ساٹھ فٹ نیچے جا سکے گا۔
جبکہ ایرانیوں نے 362فٹ گہرائی میں وہ سرنگیں بنائی ہیں جہاں ایٹمی آلات وشاید یورینیم محفوظ ہے۔