صوبوں نے وفاق سے 22 لاکھ ٹن سے زائد گندم مانگ لی

پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی طلب 22 لاکھ میٹرک ٹن سے متجاوز


شہباز رانا July 28, 2026
(فوٹو: فائل)

اسلام آباد:

ملک میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے اور گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلیے چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے مجموعی طور پر 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائدگندم فراہم کرنے کامطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاق نے ابتدائی طور پر تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے درآمدکرنے کافیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویرحسین کی زیر صدارت ہونیوالے وفاقی ویٹ بورڈکے اجلاس میں صوبائی حکومتوں کی ضروریات کاجائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ درآمدی گندم کی ادائیگی کیلیے صوبے بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) جاری کرینگے،جبکہ ادائیگی میں کسی بھی کمی کی صورت میں رقم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈمیں صوبوں کے حصے سے وصول کی جائیگی۔

پاکستان بیوروآف شماریات کے مطابق سرکاری سطح پر آٹے کی اوسط قیمت ایک سال کے دوران 74 فیصد اضافے کے بعد 129 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے،جبکہ پشاور میں آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک ریکارڈکی گئی۔

اجلاس میں پنجاب نے 10 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ نے 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا نے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن جبکہ بلوچستان نے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

حکام کے مطابق پنجاب کی ضرورت پاسکو کے ذخائر،درآمدی گندم یا دونوں ذرائع سے پوری کی جا سکتی ہے،جبکہ سندھ نے 5 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی اور 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن پاسکوذخائرسے گندم لینے کی منظوری دیدی ہے۔

اجلاس میں نجی شعبے کے نمائندوں نے حکومت سے گندم درآمدکرنے اور بین الصوبائی نقل وحمل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم ویٹ بورڈ نے یہ مطالبات مستردکرتے ہوئے واضح کیاکہ صوبوں کی ضروریات صرف ٹی سی پی کے ذریعے درآمدکی جانیوالی گندم سے پوری کی جائیں گی۔

فیصلے کے مطابق درآمدی عمل شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیاجائیگا، جبکہ صوبائی نمائندوں کو خریداری اور تکنیکی کمیٹیوں میں شامل کیاجائیگا ،تاکہ معیار اورخریداری کے عمل میں شفافیت برقراررہے۔

وفاقی وزارت غذائی تحفظ درآمدی منصوبے اور مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری حاصل کریگی،جس کے بعدگندم کی درآمدکاباقاعدہ عمل شروع کیاجائیگا۔