خون کے بہاؤ میں شامل پلاسٹک ذرات دل کی صحت کے لیے شدید خطرہ قرار
پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون کے ذریعے دل کی شریانوں تک پہنچ کر ہارٹ اٹیک کا سبب بن رہے ہیں۔
اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہمارے ارد گرد موجود پلاسٹک کے ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دل کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسان ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک کھا رہا ہے۔
تحقیقی عمل کے دوران انجیو گرافی کروانے والے 6 افراد کے 3 گروپس بنائے گئے، جن میں ہارٹ اٹیک کے مریض، شریانوں کے سکڑاؤ کا شکار افراد اور صحت مند افراد شامل تھے۔
تحقیق کے دوران جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کے ذریعے خون کی نالیوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ان میں موجود پلاسٹک کے ذرات کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی بھی ان پلاسٹک ذرات کو دل کی شریانوں میں جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو انسانی صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین طبی خطرہ بن چکا ہے۔
2024 کی سابقہ رپورٹس بھی اس کی تائید کر چکی ہیں، لہذا پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور فضائی آلودگی پر قابو پانا اب زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
| ساپینزا یونیورسٹی روم (Sapienza University of Rome) ↗
خون کی نالیوں کا معائنہ کرنے والی اٹلی کی معروف
Load Next Story
|